BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 May, 2008, 09:12 GMT 14:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق کا قرضوں میں نرمی کا مطالبہ
کانفرنس کے موقع پر انسداد دہشت گردی کی خصوصی پولیس کو سکیورٹی پر متعین کیا گیا ہے
عراق کی اقتصادی اور سیاسی اصلاحات پر اقوام متحدہ کے فورم میں شرکت کے لیےسویڈن پہنچنے پر عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا ہے کہ وہ عالمی برادری سے قرضوں کی ادائیگی میں نرمی کا مطالبہ کریں گے۔

اقوام متحدہ کے اس کانفرنس میں شرکت کے لیے تقریبا سو ممالک کے نمائندے سویڈن پہنچ رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ مطالبہ خصوصًا عرب ممالک سے کیا گیا ہے جن کا عراق سڑسٹھ بلین ڈالر کا مقروض ہے۔

اقوام متحدہ نے سٹاک ہوم سے باہر یہ کانفرنس گزشتہ برس عراق کے ساتھ بین الاقوامی معاہدے کے نام سے دیے جانے والے پانچ سالہ پیکج پر نظر ثانی کے لیے منعقد کی ہے۔

عراق کی خواہش ہے کہ وہ اس فورم کے ذریعے قرضوں میں ادائیگی میں نرمی کے لیے دباؤ ڈالے جبکہ امریکہ نے عراق کے دوست ممالک سے کہا ہے کہ معاملات جوں کے توں رکھے جائیں۔

 عراق کی خواہش ہے کہ وہ اس فورم کے ذریعے قرضوں میں ادائیگی میں نرمی کے لیے دباؤ ڈالے جبکہ امریکہ نے عراق کے دوست ممالک سے کہا ہے کہ معاملات جوں کے توں رکھے جائیں

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے سٹاک ہوم پہنچنے پر خبر نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہاہے کہ ’عراق باقی ممالک سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بغداد میں اپنے سفارت خانے کھولے اور اس کے قرضے معاف کردے۔،

امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ کونڈولیزا رائس نےعالمی برادری سے درخواست کی ہے کہ وہ عراق کی تعمیر نو میں اس کی امداد جاری رکھے۔

تاہم بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ عراق میں سکیورٹی کی صورتحال میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی اور یہی حال سیاسی اور اقتصادی اصلاحات کا ہے۔

اقوام متحدہ کی یہ کانفرنس سٹاک ہوم سے پچیس کلومیٹر شمال میں واقع اپلینڈز ویسبی میں سخت سکیورٹی میں ہو رہی ہے۔

اس موقع پر عراق میں امریکی فوجیوں کی مسلسل موجودگی کے خلاف سٹاک ہوم اور کانفرنس سنٹر کے قریب احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے۔

یہ اجتماع مئی سنہ دوہزار سات میں مصر کے ساحلی مقام شرم الشیخ میں عراق کے ساتھ معاہدے کا ایک تسلسل ہے۔

عراق میں صدر شہر اور بصرہ میں فائربندی کے بعد یہ امیدیں بڑھ رہی ہیں کہ آخرکار یہاں سکیورٹی کے حوالے سےکچھ پیشرفت ہوئی ہے۔ اور عراقی حکومت دعوی کرہی ہے کہ اسے شمالی شہر موصل سے القاعدہ کو ہٹانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

سویڈن میں ہونے والے اس اجتماع کا مقصد عراق میں استحکام کی کوششوں اور فعال معاشی نظام کو سپورٹ کرنا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد