عراق میں القاعدہ کے رہنما’گرفتار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی وزارت دفاع کے حوالے سے دی جانے والی خبروں کے مطابق ملک میں القاعدہ کے سربراہ ابو ایوب المصری کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ امریکی فوج نے فی الحال اس خبر کی تصدیق نہیں کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مصری کو شمالی شہر موصل سے گرفتار کیا گیا۔ انہیں ابو حمزہ المہاجر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ مصری نے جون دو ہزار چھ میں القاعدہ کی سربراہی اختیار کی تھی جب ابو مصعب الزرقاوی ایک امریکی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ القاعدہ کو عراق میں جاری خونریزی کے لیے بنیادی طور پر ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے اور تنظیم نے ملک میں کیے جانے والے بدترین حملوں میں سے کچھ کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔ عراقی وزارت دفاع کے ترجمان محمد العسکری نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ انہیں مصری کی گرفتاری کی اطلاع عراقی فوج نے دی ہے۔ ’نینوا صوبے کےفوجی کمانڈر نے مجھے بتایا ہے کہ عراقی افواج نے القاعدہ کے کمانڈر ابو حمزہ المہاجر کو گرفتار کر لیا ہے۔‘ وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل عبدالکریم خلف نے العراقی ٹی وی کو بتایا کہ ’ عراقی افواج نے القاعدہ کے ایک رہنما کو گرفتار کیا ہے اور پوچھ گچھ کےدوران اس نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ابو حمزہ المہاجر ہے۔‘ جنرل خلف نے بتایا کہ مصری کے بارے میں خفیہ معلومات ان کے ایک قریبی ساتھی سے حاصل ہوئی تھی۔ بغداد میں ایک امریکی فوجی ترجمان نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ خبر درست نہیں ہے۔ | اسی بارے میں المہاجر کا وڈیو پیغام07 September, 2006 | آس پاس عراق میں القاعدہ رہنما ’زخمی‘16 February, 2007 | آس پاس عراق:القاعدہ سربراہ ابومصری ’ہلاک‘ 01 May, 2007 | آس پاس القاعدہ کے رہنما کا ’انتقال ہو چکا‘10 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||