القاعدہ کے رہنما کا ’انتقال ہو چکا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خفیہ اداروں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے ایک اہم رہنما ابو عبیدہ المصری کی موت ہو چکی ہے۔ المصری کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ان کا افغانستان میں ہونے والے القاعدہ کے حملوں کی منصوبہ بندی میں اہم کردار تھا۔ امریکی انٹیلیجنس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ المصری کا پچھلے دو ماہ میں انتقال ہوا ہے اور ان کی موت کی وجہ ہیپاٹائٹس (یرقان) کی بیماری تھی۔ مصر میں پیدا ہونے والے القاعدہ کے رہنما کو برطانوی اور امریکی انٹیلیجنس القاعدہ تنظیم کے ’بیرونی آپریشنز‘ کے سربراہ بتاتے ہیں۔ المصری افغانستان میں فوجی کمانڈر رہے تھے۔ سنہ دوہزار ایک میں طالبان حکومت کے خاتمے اور امریکی حملے کے بعد انہوں نے افغانستان میں اتحادی افواج پر حملوں کی منصوبہ بندی کی۔ خیال ہے کہ بعد میں وہ غیر ملکیوں پر بڑے حملوں کی منصوبہ بندی کرتے رہے۔ انسداد دہشت گردی کے اہلکاروں کا خیال ہے کہ المصری پاکستان کے قبائلی علاقوں میں چھپے ہوئے تھے اور وہیں پر ان کا انتقال ہوا۔ ان کے بارے میں معلومات کم ہیں اور ان کا اصلی نام بھیپتہ نہیں چل سکا ہے۔ ماضی میں المصری دو قاتلانا حملوں میں محفوظ رہے تھے۔ سنہ دو ہزار چھ میں پاکستانی اہلکاروں نے اعلان کیا تھا کہ المصری افغان سرحد کے قریب ایک گاؤں پر میزائل حملے میں ہلاک ہو گئے تھے تاہم بعد میں ان کو اس کی تردید کرنی پڑی۔ اس ہی سال میں پاکستان کے ایک اور گاؤں پر میزائل حملے میں انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ | اسی بارے میں القاعدہ کے اہم رہنما ہلاک31 January, 2008 | پاکستان اسامہ کا کوئی پتہ نہیں: پاکستان23 July, 2007 | پاکستان اسامہ کے ’استاد‘ پشاور سے رہا02 June, 2007 | پاکستان ’غیرملکی مرنے کا ثبوت نہیں‘21 January, 2006 | پاکستان ’الظواہری کا رشتہ دار ہلاک ہوا‘ 11 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||