روحانی دوست کی یادوں میں زندہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
(بلال سروری افغانستان میں قتل ہو جانے والے اپنے بی بی سی کے ساتھی، دوست اور صحافی عبدالصمد روحانی کو یاد کرتے ہیں) روحانی اکثر ایک افغان کہاوت دہراتا تھا کہ’مچھلی اس وقت تک تازہ رہتی جب تک پانی میں رہے‘۔ وہ اپنے آپ کو فِیلڈ میں کام کرتے ہی زیادہ فعال سمجھتا تھا۔ کابل میں بی بی سی کے ساتھ اپنی آٹھ سالہ رفاقت کے دوران میں ملک کے خطرناک اور دُور افتادہ علاقوں میں کام کرنے والے رپورٹروں کے ساتھ رابطے میں رہتا تھا۔ یہ انتھک بہادر رپورٹر اپنے گھر والوں سے اس لیے دوریاں برداشت کرتے ہیں کہ دنیا کو افغانستان کے پریشان حال لوگوں کی زندگی کی جھلک دکھائی جا سکے۔
ہلمند کا صوبہ طالبان کی مزاحمت کا گڑھ ہے۔ برطانوی فوجیوں کی بڑی تعداد میں موجودگی کی وجہ سے یہ علاقہ خبروں کے اعتبار سے برطانیہ میں بی بی سی سننے والوں کے لیے اہم ہے۔ میں آج تک کسی سے نہیں ملا جو ہلمند کو روحانی سے بہتر جانتا تھا۔ وہ ہلمند میں پیدا ہوا اور صحافی ہونے کے علاوہ مقامی سطح پر ایک شاعر کی حیثیت سے بھی جانا جاتا تھا۔ ہلمند میں شاید ہی کوئی دن حادثے کے بغیر گزرتا ہے اور کئی بار وہ سارا سارا دن فون پر میرے ساتھ رابطے میں رہتا تھا۔ میں اس کی دلیری ہمیشہ یا رکھوں گا۔ اس کے جذبہ اسے طالبان کے زیر انتظام علاقوں میں لے جاتا اور وہ وہاں لوگوں کے حالات کے بارے میں لکھتا۔ روحانی کئی بار کابل میں میرے گھر ٹھہرتا اور اور مجھے اور میرے دوستوں کو پشتو زبان میں لکھی گئی اپنی رومانوی نظموں سے محضوظ کرتا۔ لیکن ہماری شامیں میں اس کی فون کالیں بار بار مخل ہوتیں۔ حکومتی اہلکار، قبائلی عمائدین اسے بات کرنا چاہتے تھے اور کبھی کوئی مقامی تاجر کرپشن کی
میں جب بھی کابل واپس گیا روحانی مجھ سے سب سے پہلے رابطہ کرنے والوں میں شامل ہوتا۔ وہ کہتا ’ہمارے افغانستان میں خِوش آمدید، ہلمند کے اس گاؤں سے میرا سلام قبول کرو‘۔ اس سنیچر جو جب اس کا فون نہیں آیا تو میں پریشان ہوگیا۔ مجھے بتایا گیا کہ وہ لاپتہ ہے اور اس کا فون بند ہے۔ میں نے اپنے آپ کو تسلی دی کہ شاید وہ پھر کسی ایک گاؤں یا علاقے میں گیا ہے جہاں ٹیلیفون کنکشن میسر نہیں۔ لیکن پھر ایک بری خبر آئی۔ ایک نامعلوم شخص نے بی بی سی کے ایک اور ساتھی کو ہلمند سے فون کیا کہ وہ آکر روحانی میت لے جائیں۔ یہ خبر سنتے ہی مجھے ایک ساتھ ہزاروں دلوں کے ٹوٹنے کا بوجھ محسوس ہوا اور ایسا لگا کہ دنیا ختم ہو رہی ہے۔ روحانی کی یادیں ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گی۔ ایک افغان کی حیثیت سے مجھے اس کا دوست اور رفیق اور ہونے پر فخر ہے۔ اس نے اپنی زندگی حقیقت بیان کرنے اور افغانستان کی بھلائی کے لیے وقف کر دی تھی۔ میں نہیں جانتا اسے کس نے مارا ہے لیکن مجھے یہ معلوم ہے کہ ہم سے اور لوگ سچ کہنا جاری رکھیں گے اور سچ اپنی بقاء خود کرتا ہے۔ | اسی بارے میں حب میں فائرنگ سےصحافی ہلاک14 April, 2008 | پاکستان قبائلی صحافی قتل23 May, 2008 | پاکستان باجوڑ:مقتول صحافی کی تدفین23 May, 2008 | پاکستان سری لنکا: صحافی کا اغوا اور تشدد23 May, 2008 | آس پاس الجزیرہ کا صحافی گوانتانامو سے رہا01 May, 2008 | آس پاس صحافی ریاض مینگل بازیاب ہوگئے27 November, 2007 | پاکستان پشاور میں مقامی صحافی قتل30 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||