صحافی ریاض مینگل بازیاب ہوگئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر خضدار سے تعلق رکھنے والے مقامی صحافی ریاض مینگل جنہیں چار اکتوبر کو اغواء کرلیا گیا تھا، قید سے فرار ہو کر منگل کے روز کوئٹہ پریس کلب پہنچ گئے۔ ریاض مینگل نے خضدار سے اپنے اغواء کے بارے میں پریس کلب پہنچنے کے بعد بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ خضدار کی با اثر شخصیات کے کہنے پر ان کا اغواء کیا گیا تھا۔ ریاض مینگل نے بتایا کہ ان کے اغواء کی اصل وجہ یہ تھی کہ خضدار میں پولیس نے دو گاڑیوں کو اپنے قبضے میں لیا تھا جو چوری شدہ تھیں اور بعد میں یہ گاڑیاں پولیس نے بغیر تحقیقات کے چھوڑ دیں۔ ریاض مینگل کے مطابق اس واقعے پر ان کی رپورٹ کی وجہ سے ان کا اغواء کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ’چار اکتوبر سے لیکر 26 نومبر تک میرا کسی بھی طرح میرے گھر سے کوئی رابطہ نہیں تھا، کیونکہ اغواء کرنے والے مجھے مختلف جگہوں پر رکھتے تھے۔ کئی بار انہوں نے مجھے کمرے میں بند رکھا اور کئی بار جھونپڑی میں رکھا اس دوران میرے نگرانی پرمامور مسلح افراد ہمیشہ نقاب پوش رہتے تھے۔‘ | اسی بارے میں کراچی پریس کلب میں احتجاجی مظاہرہ15 November, 2007 | پاکستان تشدد کے خلاف صحافیوں کا مظاہرہ01 February, 2007 | پاکستان دھمکیاں: سپریم کورٹ کا نوٹس31 May, 2007 | پاکستان سرحد: صحافیوں کے احتجاجی کیمپ14 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||