دھمکیاں: سپریم کورٹ کا نوٹس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے کراچی میں صحافیوں کو ایک گروہ کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کا ازخود نوٹس لے لیا ہے۔ مقدمے کی پہلی سماعت چار جون کو ہوگی۔ سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے قائم مقام چیف جسٹس کو دی گئی درخواست میں کراچی میں صحافیوں کو دھمکانے کے واقعات کا ذکر کیا تھا۔ قائم مقام چیف جسٹس کے نام درخواست میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے تین سرکردہ صحافیوں کو نامعلوم افراد کی جانب سے لفافوں میں پستول کی گولیاں بھیجنے ذکر کیاگیا تھا۔ منگل کی شام کراچی میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے سیکرٹری جنرل مظہر عباس، فوٹو گرافر آصف اور اے پی کے نمائندہ ضرار خان کی گاڑیوں گولیاں برآمد ہوئی تھیں۔ واضح رہے کہ چند روز پہلے مہاجر رابطہ کونسل نامی ایک تنظیم نے صحافیوں کی ایک فہرست اخبارات میں شائع کروائی تھی جن کے بارے میں تنظیم کا کہنا تھا کہ یہ صحافی مہاجر ہونے کے باوجود ان کے مقصد کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ اس فہرست میں مظہر عباس اور ضرار خان کا نام بھی شامل تھے۔ متحدہ قومی موومنٹ نے اس کی مذمت کرتے ہوئے مہاجر رابطہ کونسل سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔ مظہر عباس کا کہنا تھا کہ یہ واضح دھمکی ہے اور ان کے خیال میں اس کا تعلق صحافیوں کی مذکورہ فہرست والے معاملے سے ہے۔ |
اسی بارے میں ’سپریم کورٹ ہماری مدد کرے‘29 May, 2007 | پاکستان صحافیوں کو دھمکی پر احتجاجی مظاہرے30 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||