BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 May, 2008, 10:46 GMT 15:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہلاک شدگان تقریباً 40 ہزار‘
چینی وزیرِ اعظم نے فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ چوبیس گھنٹوں میں ہر متاثرہ مقام تک پہنچیں
چین میں گزشتہ ہفتے سیچوان کے صوبے میں تباہ کن زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 40,075 ہوگئی ہے۔

زلزلے کے بعد سے اب تک ہزاروں کی تعداد میں افراد لاپتہ ہیں اور انہیں زندہ ڈھونڈ لینے کی امیدیں آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہیں۔

غیر ملکی میڈیکل ٹیموں نے بھی چین پہنچنا شروع کر دیا ہے۔

سیچوان کے نائب گورنر لی چینگ ین نے بتایا کہ مرنے والے افراد کی تعداد چالیس ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ لیکن اس میں وہ سینکڑوں افراد شامل نہیں جو قریبی صوبوں میں مارے گئے ہیں۔

چین میں زلزلے کے بعد منانے جانے والے تین روزہ سوگ کا آج دوسرا دن ہے۔ چین کا قومی پرچم سرنگوں ہیں، تفریحی تقاریب منسوخ کر دی گئی ہیں۔ اولمپک مشعل کے سلسلے میں ریلے بھی معطل کر دی گئی ہے۔

اس سے قبل بیجنگ میں حکام نے کہا تھا کہ زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد چونتیس ہزار سے کچھ زیادہ ہے لیکن انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ یہ تعداد پچاس ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

ریکٹر سکیل پر سات اعشاریہ نو کی شدت سے بارہ مئی کو آنے والے اس زلزلے کے ملبے سے امدادی ٹیمیں ابھی تک متاثرہ افراد کو نکال رہی ہیں۔

ایک شخص کو ایک بجلی گھر کے ملبے سے ایک سو اناسی گھنٹوں کے بعد زندہ نکال لیا گیا لیکن حکام کہتے ہیں کہ اب ملبے سے زندہ نکالے جانے والے واقعات صرف اکا دکا ہیں۔

امدادی کارروائیاں اب لاکھوں متاثرہ افراد کو خوراک پہنچانے، انہیں ٹھکانہ فراہم کرنے اور پینے کے صاف پانی کی ترسیل پر مرکوز ہو رہیں ہیں۔

پیر کو چین کے وزیرِ اعظم وین جیاباؤ نے فوج کو حکم دیا تھا کہ وہ چوبیس گھنٹے کے اندر اندر ہر متاثرہ قصبے، گاؤں اور شہر میں جائیں اور امدادی کارروائیوں میں مدد فراہم کریں۔

چینی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ زلزلے میں دو لاکھ چھتیس ہزار تین سو انسٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ایک بیان میں چین کی کابینہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ زلزلے میں پچاس لاکھ افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

چین کی وزارتِ خارجہ نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ اسے خیمے فراہم کیے جائیں۔

اگلے ماہ سے حکومت متاثرہ افراد کی طویل المدت امداد کے لیے خصوصی ٹکٹ جاری کر رہی ہے جس سے لگ بھگ چار ملین ڈالر اکٹھے کیے جائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد