BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 May, 2008, 17:15 GMT 22:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قرآن پر نشانے بازی، بش کی معذرت
سنائپر
امریکی صدر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس واقعہ میں ملوث فوجی کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا
عراقی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مبینہ طور پر قرآن کو نشانے بازی کے لیے استعمال کے واقعہ پر امریکی صدر بش نے ذاتی طور پر معافی مانگی ہے۔

عراقی وزیر اعظم نوری مالکی کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی صدر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس واقعہ میں ملوث فوجی کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔

تاہم وہائٹ ہاؤس نے صدر کی معافی کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر نے عراقی وزیر اعظم سے فون پر ذاتی طور پر معافی مانگی۔ ’امریکی صدر نے امریکہ کی طرف سے معافی مانگی ۔۔۔ یقین دہانی کرائی کہ اس فوجی کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔’

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کے بارے میں عراقی عوام اور حکومت میں غم و غصہ کے حوالے سے نوری مالکی نے صدر بش کو بتایا۔

واضح رہے کہ امریکی فوجی کو اس وقت واپس امریکہ بھیج دییا گیا تھا جب عراقی پولیس کو شوٹنگ رینج سے گولیوں سے چھلنی قران ملا تھا۔

پچھلے ہفتے امریکی فوج نے کہا تھا کہ اس واقعہ میں مبینہ طور پر ملوث فوجی کو یونٹ سے نکال دیا ہے، واپس امریکہ بھیج دیا ہے اور اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس فوجی کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے تاہم وہ سنائپر یونٹ میں سٹاف سارجنٹ تھا۔

امریکی فوج نے پہلے ہی مغربی بغداد کے علاقے کے رہنماؤں سے معافی مانگ لی ہے اور ان کو قران کی نئی کاپی بھی پیش کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد