BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 May, 2008, 06:37 GMT 11:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسامہ کا ڈرائیور، سماعت ملتوی
سلیم احمد ہمدان چھ برسوں سے قید میں ہیں
سلیم احمد ہمدان چھ برسوں سے قید میں ہیں
امریکہ کی ایک فوجی عدالت نے اسامہ بن لادن کے سابق ڈرائیور سلیم احمد ہمدان کے خلاف مقدمے کی سماعت ملتوی کردی ہے۔

عدالت نے سماعت اس لیے ملتوی کردی تاکہ پہلے قیدیوں کے حقوق سے متلعق سپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے آجائے جس کا اس مقدمے پر بھی اثر پڑے گا۔

عدالت کے جج امریکہ بحریہ کے کپتان کیتھ آلریڈ نے بتایا کہ وہ پہلے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ گوانتانامو بے کے قیدیوں کے حقوق سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ کیا ہوگا۔ یمن سے تعلق رکھنے والے سلیم احمد ہمدان کے مقدمے کی سماعت اکیس جولائی تک ملتوی کردی گئی ہے۔ سپریم کورٹ اپنا فیصلہ تیس جون تک سنائے گی۔

امریکی حکومت نے سلیم احمد ہمدان کے خلاف یہ الزام لگایا ہے کہ امریکہ پر گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے حملوں کے بعد افغانستان میں انہوں نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو فرار ہونے میں مدد کی۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس مقدمے کو جنگی جرائم کی عدالت تصور کر رہی ہیں۔

منگل کے روز امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے ایک سعودی شہری محمد القہطانی کے خلاف عدالتی کارروائی ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم پینٹاگون نے کہا تھا کہ گوانتامو بے کی دیگر پانچ قیدیوں پر مقدمہ چلایا جائےگا۔ ان پانچوں قیدیوں پر قتل اور جنگی جرائم کے الزامات ہیں۔

 سلیم احمد ہمدان نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اسامہ بن لادن کے لیے دو سو ڈالر ماہانہ کے عوض کام کیا ہے لیکن انہوں نے کسی دہشت گرد تنظیم کا رکن ہونے یا اس طرح کے حملوں میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔
سلیم احمد ہمدان کے وکیل نے سماعت کو ملتوی کرنے کی اپیل کی تھی۔ وکیل کا اصرار ہے کہ سلیم احمد ہمدان القاعدہ کے رکن نہیں ہیں اور انہیں غیرقانونی دشمن جنگجو یعنی انلافُل اینیمی کمباٹینٹ تصور نہیں کیا جا سکتا۔

سلیم احمد ہمدان چھ برسوں سے قید میں ہیں۔ ان پر دہشت گردی کی حمایت اور منصوبہ بندی کے الزامات ہیں جن کے ثابت ہونے پر انہیں عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

سلیم احمد ہمدان نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اسامہ بن لادن کے لیے دو سو ڈالر ماہانہ کے عوض کام کیا ہے لیکن انہوں نے کسی دہشت گرد تنظیم کا رکن ہونے یا اس طرح کے حملوں میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔

امریکہ کی سپریم کورٹ میں’حبس بےجا‘کے تحت دو مقدمات ہیں جن میں قیدیوں کے مقدموں کی غیرفوجی جج کے ذریعے سماعت کے حق کا تعین ہونا ہے۔ حبس بےجا کے اصول کے تحت حکام پر لازمی ہے کہ وہ کسی قیدی کو عدالت کے سامنے پیش کریں تاکہ اس کی حراست کے قانونی جواز کا تعین ہوسکے۔

سپریم کورٹ میں یہ مقدمات گوانتانامو بے کے سینتیس غیرملکی قیدیوں کی جانب سے لائے گئے ہیں۔ ابھی گوانتانامو بے کے امریکی حراستی مرکز میں تین سو پانچ قیدی ہیں۔ اگر سپریم کورٹ نے قیدیوں کے حق میں فیصلہ دے دیا تو ان کی فوج کے ہاتھوں غیرمعینہ مدت کی حراست غیرقانونی ہوجائے گی۔

تاہم پینٹاگون کے ترجمان نے کہا ہے کہ سلیم احمد ہمدان کے مقدمے کا خالد شیخ محمد کی سماعت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ خالد شیخ محمد اور دیگر چار افراد کے خلاف فوجی عدالت پانچ جون کو گونتانامو بے میں اپنا فیصلہ سناسکتی ہے۔ خالد شیخ محمد نے گیارہ ستمبر کے حملوں کی منصوبہ بندی کا اعتراف کیا ہے۔

گوانتاموبے کے بیشتر قیدیوں کو گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد افغانستان میں امریکی جنگ کے دوران گرفتار کیا گیا تھا جبکہ بعض کو پاکستان اور دیگر ملکوں سے پکڑ کر لایا گیا تھا۔

اسی بارے میں
میڈیا کے ماہر کا پیغام
09 September, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد