سی آئی اے اہلکاروں کےخلاف مقدمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹلی میں ایک جج نے چھبیس امریکی شہریوں کو سنہ دوہزار تین میں ایک مصری مبلغ کو اغوا کرنے کے الزام میں مقدمے کا سامنا کرنے کا حکم دیا ہے۔ زیادہ تر افراد خفیہ ادارے سی آئی اے کے ایجنٹ ہیں۔ مبینہ طور پر سنہ دو ہزار تین میں اسامہ مصطفٰے حسن کو سی آئی نے اغوا کر کے مصر پہنچایا تھا جہاں بقول ان کے ان پر تشدد کیا گیا تھا۔ جج نے جن افراد کو حکم دیا ہے ان میں اٹلی کی فوج کی انٹیلیجنس کے سابق سربراہ نکولو پولاری سمیت اٹلی کے سات شہری بھی شامل ہیں۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہوگا جس میں امریکہ کے ہاتھوں مختلف افراد کی خفیہ منتقلی کے مسئلے کو ایک جرم کے طور پر کسی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ خفیہ منتقلی کے اس عمل کے دوران مبینہ طور پر دہشتگردی میں ملوث افراد کو ایک ملک سے اٹھا کر دوسرے ملک لے جایا جاتا ہے جہاں، زیادہ تر مغویوں کے دعوے کے مطابق، ان پر تشدد کیا جاتا ہے۔ جج نے جن امریکیوں کو عدالت کا سامنا کرنے کو کہا ہے ان میں سے زیادہ تر اٹلی چھوڑ کر واپس امریکہ جا چکے ہیں۔ اطالوی حکومت نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ امریکہ سے ان افراد کو اٹلی کے حوالے کرنے کی درخواست کرے گی یا نہیں۔ امریکہ نے آج تک اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
جن افراد کو خفیہ کارروائیوں میں ملوث پایا گیا ہے ان میں میلان میں سی آئی اے کے سابق سٹیشن چیف، رابرٹ سلڈن لیڈی بھی شامل ہیں۔ ان کا دعوٰی ہے کہ انہوں نے اسامہ مصطفٰے حسن کو اغوا نہ کرنے کی تجویز دی تھی لیکن ان کی تجویز کو رد کر دیا گیا تھا۔ اٹلی کی فوج کی انٹیلیجنس کے سابق سربراہ نکولو پولاری کو پہلے ہی ایک انکوائری کے بعد اپنے عہدے سے ہٹایا جا چکا ہے۔ جن سات اطالوی باشندوں کو جج نے حکم دیا ہے ان میں سے چھ پر اسامہ مصطفٰے حسن کو اغوا کرنے جبکہ ایک پر اغوا کے بارے میں معلومات کو خفیہ رکھنے کا الزام ہے۔ استغاثہ کے وکلاء کا کہنا ہے کہ انہوں نے ماضی اور حال کے کئی اطالوی خفیہ ایجنٹوں سے نہایت تفصیلی معلومات اکھٹی کی ہیں جن میں سے کئی ایک نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اسامہ مصطفٰے حسن کے اغوا کی منصوبہ بندی میں امریکہ کے ساتھ کام کیا تھا۔ مقدمے کی کارروائی آٹھ جون کو شروع ہو گی۔ اسامہ مصطفٰے حسن کو، جنہیں ابو عمر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، گزشتہ اتوار کو ہی مصر کی ایک جیل سے رہا کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چار سال میں مصر میں قید کے دوران انہیں کئی بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ | اسی بارے میں خفیہ پروازیں: یورپی ملکوں کی مذمت14 February, 2007 | آس پاس خفیہ جیلیں: بش پرشدید تنقید06 September, 2006 | آس پاس اٹلی: انٹیلجنس افسر گرفتار05 July, 2006 | آس پاس ’سی آئی اے کے جہاز کیوں اُترے‘ 05 April, 2006 | آس پاس سی آئی اے بے نقاب13 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||