رہائی امن معاہدے کا حصہ نہیں: حماس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حماس کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار چھ میں پکڑے گئے اسرائیلی فوجی گِلاد شالت کی رہائی کسی امن معاہدے کی شق نہیں بنے گی۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے میں فوجی کی رہائی شامل ہونی چاہیے۔ کارپورل شالت کو دو سال قبل حماس سمیت فلسطینی جنگجوؤں نے سرحد پار کارروائی کے دوران پکڑا تھا۔ وزیراعظم کے ترجمان مارک ریگیو نے کہا ’حماس کی حراست میں ایک جوان اسرائیلی فوجی ہے اور اس کو رہا کرنا ہو گا۔ حماس کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اسرائیل ان کی حراست میں فوجی کو نظر انداز کردے گا۔‘ حماس کے سینیئر رہنما محمود ظہار نے جواب میں غزہ میں تقریر کے دوران کہا ’وہ لوگ غلطی پر ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ شالت کا معاملہ جنگ بندی کی عوض طے پا جائے گا۔ قیدیوں کے تبادلے کا معاملہ جنگ بندی سے مختلف ہے۔‘ حماس نے شالت کی رہائی کے بدلے میں ساڑھے چار سو فلسطینی قیدیوں کا مطالبہ کیا ہے۔حماس کے رہنما خالد مشعال نے مارچ میں کہا تھا کہ فوجی زندہ ہے اور اس کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ مصر کے انٹیلیجنس سربراہ سوموار کو اسرائیل میں اسرائیلی حکام سے غزہ پٹی کے جنگجوؤں کی جنگ بندی کی تجویز پر بات چیت کے لیے پہنچے ہیں۔ عمر سلیمان کئی ماہ سے فلسطینی جنگجوؤں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور اپریل کے آخر میں مشترکہ جنگ بندی کا مسودہ تیار کرنے میں کامیاب ہوئے۔ | اسی بارے میں ایندھن کی ترسیل پر پابندی ختم06 May, 2008 | آس پاس غزہ، تین فلسطینی ہلاک22 April, 2008 | آس پاس اسرائیلی فوج کے تین سپاہی ہلاک16 April, 2008 | آس پاس اسرائیلی فضائی حملہ، پانچ ہلاک27 February, 2008 | آس پاس غزہ کی ناکہ بندی کے خلاف احتجاج25 February, 2008 | آس پاس ’راکٹ یا بجلی، حماس فیصلہ کرے‘09 February, 2008 | آس پاس نیا اسرائیلی حملہ: سات ہلاک08 February, 2008 | آس پاس ’مزاحمت جاری رہے گی‘26 January, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||