انتخاب میں حصہ لوں گا: چنگرائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زمبابوے میں حزب اختلاف کے رہنما مورگن چنگرائی نے کہا کہ وسیع تر انتخابی تشدد کے خطرے کے باوجود وہ صدارتی انتخاب کے دوسرے دور میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے جنوبی افریقہ میں کہا ہے کہ اگر انہوں نے انتخاب میں حصہ نہ لیا تو لوگ محسوس کریں گے کہ ان سے بے وفائی کی گئی ہے۔ مورگن چنگرائی نے تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ساتھ ہی انتحاب کی مانیٹرنگ اور کوریج کے لیے عالمی اداروں اور ذرائع ابلاغ کو مکمل رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ انتحاب کے پہلے دور میں انہیں صدر موگابے سے زیادہ ووٹ حاصل ہوئے تھے لیکن اتنے نہیں کہ انہیں کامیاب قرار دیا جاتا۔ مورگن چنگرائی نے اس سے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں پچاس فی صد سے زائد ووٹ حاصل ہوئے ہیں اور اس لیے انتخاب کے دوسرے دور کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سنیچر کو انہوں نے جنوبی افریقہ میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک برائے جمہوری تبدیلی نے انتخاب کے دوسرے مرحلے میں حصہ لینے کا دشوار فیصلہ زمبابوے میں اپنے حامیوں کے مشورے سے کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا ’میں بھی حتمی دور کے لیے تیار ہوں اور لوگ بھی تیار ہیں‘۔ پہلے دور کے ابتدائی نتائج میں صدر موگابے کی جماعت کی شکست کی اطلاعات کے بعد قیاس آرائی کی جا رہی تھی کہ وہ انتخاب کے دوسرے دور میں حصہ نہیں لیں گے۔
حکمران جماعت زانو پی ایف نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ سولہ نشستوں پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کرے گی۔ اگر ان نشستوں پر دوبارہ گنتی کے نتیجے میں زانو پی ایف کامیاب ہوگئی تو وہ پارلیمینٹ میں اکثریت حاصل کرلے گی۔ اپوزیشن جماعت تحریک برائے جمہوری تبدیلی، ایم ڈی سی کا کہتی ہے کہ مورگن چنگرائی نے پچاس اعشاریہ تین فیصد ووٹ حاصل کیے تھے جو پچاس فیصد کی اس مقررہ حد سے اوپر ہیں جو دوسرے مرحلے کے لیے ضروری ہوتے ہیں لیکن ایک آزاد تخمینے کے مطابق مورگن چنگرائی نے انچاس فیصد ووٹ حاصل کیے تھے جب کہ رابرٹ موگابے کو بیالیس فیصد ووٹ ملے تھے۔ | اسی بارے میں زمبابوے: ووٹوں کی دوبارہ گنتی کامطالبہ06 April, 2008 | آس پاس زمبابوے:چنگرائی کا واضح فتح کا دعوٰی05 April, 2008 | آس پاس موگابے کو حکمران پارٹی کی حمایت05 April, 2008 | آس پاس ’موگابے استعفٰی نہیں دیں گے‘04 April, 2008 | آس پاس صدر موگابے کے مستقبل پر غور 04 April, 2008 | آس پاس زمبابوے: حزب اختلاف کی فتح03 April, 2008 | آس پاس موگابے دوسرے مرحلے کے لیے تیار03 April, 2008 | آس پاس صدر موگابے کی جماعت کو شکست02 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||