BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 May, 2008, 11:49 GMT 16:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخاب میں حصہ لوں گا: چنگرائی
مورگن چنگرائی
’میں بھی حتمی دور کے لیے تیار ہوں اور لوگ بھی تیار ہیں‘
زمبابوے میں حزب اختلاف کے رہنما مورگن چنگرائی نے کہا کہ وسیع تر انتخابی تشدد کے خطرے کے باوجود وہ صدارتی انتخاب کے دوسرے دور میں حصہ لیں گے۔

انہوں نے جنوبی افریقہ میں کہا ہے کہ اگر انہوں نے انتخاب میں حصہ نہ لیا تو لوگ محسوس کریں گے کہ ان سے بے وفائی کی گئی ہے۔

مورگن چنگرائی نے تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ساتھ ہی انتحاب کی مانیٹرنگ اور کوریج کے لیے عالمی اداروں اور ذرائع ابلاغ کو مکمل رسائی حاصل ہونی چاہیے۔

انتحاب کے پہلے دور میں انہیں صدر موگابے سے زیادہ ووٹ حاصل ہوئے تھے لیکن اتنے نہیں کہ انہیں کامیاب قرار دیا جاتا۔

مورگن چنگرائی نے اس سے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں پچاس فی صد سے زائد ووٹ حاصل ہوئے ہیں اور اس لیے انتخاب کے دوسرے دور کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

سنیچر کو انہوں نے جنوبی افریقہ میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک برائے جمہوری تبدیلی نے انتخاب کے دوسرے مرحلے میں حصہ لینے کا دشوار فیصلہ زمبابوے میں اپنے حامیوں کے مشورے سے کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’میں بھی حتمی دور کے لیے تیار ہوں اور لوگ بھی تیار ہیں‘۔

پہلے دور کے ابتدائی نتائج میں صدر موگابے کی جماعت کی شکست کی اطلاعات کے بعد قیاس آرائی کی جا رہی تھی کہ وہ انتخاب کے دوسرے دور میں حصہ نہیں لیں گے۔

رابرٹ موگابے
صدر رابرٹ موگابے کو صدارتی انتخاب کے پہلے دور میں بیالیس فیصد ووٹ ملے تھے۔

حکمران جماعت زانو پی ایف نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ سولہ نشستوں پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کرے گی۔ اگر ان نشستوں پر دوبارہ گنتی کے نتیجے میں زانو پی ایف کامیاب ہوگئی تو وہ پارلیمینٹ میں اکثریت حاصل کرلے گی۔

اپوزیشن جماعت تحریک برائے جمہوری تبدیلی، ایم ڈی سی کا کہتی ہے کہ مورگن چنگرائی نے پچاس اعشاریہ تین فیصد ووٹ حاصل کیے تھے جو پچاس فیصد کی اس مقررہ حد سے اوپر ہیں جو دوسرے مرحلے کے لیے ضروری ہوتے ہیں لیکن ایک آزاد تخمینے کے مطابق مورگن چنگرائی نے انچاس فیصد ووٹ حاصل کیے تھے جب کہ رابرٹ موگابے کو بیالیس فیصد ووٹ ملے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد