زمبابوے پر اجلاس موگابے کے بغیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطلاعات کے مطابق زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے ملک میں جاری سیاسی بحران پر بحث کے لیے زیمبیا میں منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے جبکہ اقوامِ متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان کا کہنا ہے کہ زمبابوے میں حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان نازک توازن برقرار نہیں رہ سکتا۔ کوفی عنان نے کہا ہے کہ لوساکا میں زمبابوے کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے سنیچر سے شروع ہونے والے ہنگامی اجلاس میں شامل براعظم افریقہ کے جنوبی ممالک کے رہنماؤں پر اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ زمبابوے میں دو ہفتے قبل ہونے والے صدارتی انتخاب کا نتیجہ منظرِ عام پر لایا جانا ضروری ہے۔ زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے کی عدم شرکت کا اعلان سرکاری ریڈیو کی ایک رپورٹ میں کیا گیا جس کے مطابق سربراہی کانفرنس میں صدر موگابے کی نمائندگی ایک وزارتی وفد کرے گا۔ زمبابوے میں حالیہ سیاسی بحران انتخابات کے نتائج کے اعلان میں تاخیر پر شروع ہوا تھا۔ ملک میں تیرہ دن قبل ہونے والے انتخابات کے نتائج کا تاحال اعلان نہیں کیا گیا ہے اور اپوزیشن کا کہنا ہے کہ صدر موگابے الیکشن کمیشن کے حکام کو گرفتار کر کے ان کے کام پر اثرانداز ہونے اور نتائج تبدیل کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ادھر اپوزیشن جماعت ایم ڈی سی کی جانب سے ہرارے میں مظاہرے کے اعلان اور منگل کو ہڑتال کی اپیل کے بعد پولیس حکام نے ملک بھر میں جلسے جلوسوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے جو فوری طور پر نافذالعمل ہوگی۔ سرکاری طور پر اس پابندی کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے تاہم سرکاری ریڈیو کا کہنا ہے کہ پولیس کو ان ریلیوں سے نمٹنے کے لیے افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔ زمبابوے کے سینئر اسٹنٹ پولیس کمشنر فوستینومزانگو نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ’ تمام سیاسی جماعتوں کو افراتفری پھیلانے کے بارے میں متنبہ کیا گیا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بہت سے لوگ زمبابوے میں امن نہیں چاہتے‘۔ انہوں نے کہا کہ’امن و امان خراب کرنے والے افراد سے، وہ چاہے جو بھی ہوں، سختی سے نمٹا جائے گا‘۔ اپوزیشن جماعت ایم ڈی سی کے ترجمان نیلسن چمیسا کا کہنا ہے کہ ’ہم کسی پولیس ریاست کا حکم تسلیم نہیں کر سکتے۔ عوام نے تبدیلی اور جمہوریت کے لیے ووٹ دیے ہیں اور انہیں بدلے میں یہ کیا مل رہا ہے؟ یہ سب کچھ ناقابلِ قبول ہے‘۔ | اسی بارے میں زمبابوے: ووٹوں کی دوبارہ گنتی کامطالبہ06 April, 2008 | آس پاس زمبابوے:چنگرائی کا واضح فتح کا دعوٰی05 April, 2008 | آس پاس موگابے کو حکمران پارٹی کی حمایت05 April, 2008 | آس پاس ’موگابے استعفٰی نہیں دیں گے‘04 April, 2008 | آس پاس صدر موگابے کے مستقبل پر غور 04 April, 2008 | آس پاس زمبابوے: حزب اختلاف کی فتح03 April, 2008 | آس پاس موگابے دوسرے مرحلے کے لیے تیار03 April, 2008 | آس پاس صدر موگابے کی جماعت کو شکست02 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||