BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 April, 2008, 21:42 GMT 02:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زمبابوے پر اجلاس موگابے کے بغیر
پولیس زمبابوے
پولیس نے جلسوں پر عائد پابندی کے خلاف ورزی پر سختی برتنے کا اعلان کیا ہے
اطلاعات کے مطابق زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے ملک میں جاری سیاسی بحران پر بحث کے لیے زیمبیا میں منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے جبکہ اقوامِ متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان کا کہنا ہے کہ زمبابوے میں حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان نازک توازن برقرار نہیں رہ سکتا۔

کوفی عنان نے کہا ہے کہ لوساکا میں زمبابوے کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے سنیچر سے شروع ہونے والے ہنگامی اجلاس میں شامل براعظم افریقہ کے جنوبی ممالک کے رہنماؤں پر اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ زمبابوے میں دو ہفتے قبل ہونے والے صدارتی انتخاب کا نتیجہ منظرِ عام پر لایا جانا ضروری ہے۔

زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے کی عدم شرکت کا اعلان سرکاری ریڈیو کی ایک رپورٹ میں کیا گیا جس کے مطابق سربراہی کانفرنس میں صدر موگابے کی نمائندگی ایک وزارتی وفد کرے گا۔

زمبابوے میں حالیہ سیاسی بحران انتخابات کے نتائج کے اعلان میں تاخیر پر شروع ہوا تھا۔ ملک میں تیرہ دن قبل ہونے والے انتخابات کے نتائج کا تاحال اعلان نہیں کیا گیا ہے اور اپوزیشن کا کہنا ہے کہ صدر موگابے الیکشن کمیشن کے حکام کو گرفتار کر کے ان کے کام پر اثرانداز ہونے اور نتائج تبدیل کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

News image
 زمبابوے میں دو ہفتے قبل ہونے والے صدارتی انتخاب کا نتیجہ منظرِ عام پر لایا جانا ضروری ہے۔
کوفی عنان

ادھر اپوزیشن جماعت ایم ڈی سی کی جانب سے ہرارے میں مظاہرے کے اعلان اور منگل کو ہڑتال کی اپیل کے بعد پولیس حکام نے ملک بھر میں جلسے جلوسوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے جو فوری طور پر نافذالعمل ہوگی۔

سرکاری طور پر اس پابندی کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے تاہم سرکاری ریڈیو کا کہنا ہے کہ پولیس کو ان ریلیوں سے نمٹنے کے لیے افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔ زمبابوے کے سینئر اسٹنٹ پولیس کمشنر فوستینومزانگو نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ’ تمام سیاسی جماعتوں کو افراتفری پھیلانے کے بارے میں متنبہ کیا گیا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بہت سے لوگ زمبابوے میں امن نہیں چاہتے‘۔

انہوں نے کہا کہ’امن و امان خراب کرنے والے افراد سے، وہ چاہے جو بھی ہوں، سختی سے نمٹا جائے گا‘۔

اپوزیشن جماعت ایم ڈی سی کے ترجمان نیلسن چمیسا کا کہنا ہے کہ ’ہم کسی پولیس ریاست کا حکم تسلیم نہیں کر سکتے۔ عوام نے تبدیلی اور جمہوریت کے لیے ووٹ دیے ہیں اور انہیں بدلے میں یہ کیا مل رہا ہے؟ یہ سب کچھ ناقابلِ قبول ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد