بش: بصرہ کریک ڈاؤن کی تعریف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے بصرہ شہر میں شیعہ ملیشیا کے خلاف عراقی فورسز کو کارروائی کرنے کا حکم دینے پر عراقی وزیراعظم نور المالکی کی تعریف کی ہے۔ صدر بش نے اوہایو میں خطاب کے دوران وزیراعظم نورالمالکی کا ذکر کیا اور ان کے فیصلے کو ’جراتمندانہ فیصلہ‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے عراقی سیکیورٹی افواج کی ترقی کا اظہار ہوتا ہے۔صدر بش نے کہا کہ سیکیورٹی کی بہتری سے اہم قانون سازی ممکن ہو گی اور معیشت کو بہتر بنایا جا سکے گا۔ انہوں خطاب کے دوران ایک بار پھر اپنے اس دعوے کا اعادہ کیا کہ مسلح شیعہ جنگجوؤں میں سے کچھ کو ایران کی سرپرستی حاصل ہے۔ صدر بش نے کہا کہ عراقی سیکیورٹی فورسز بصرہ میں ان جنگجوؤں اور جرائم پیشہ لوگوں کے خلاف ایک کٹھن لڑائی لڑ رہی ہیں جن میں سے بہت سوں کو ایران سے سرمایہ، تربیت اور اسلحہ ملتا ہے۔ اس دوران عراقی وزیراعظم نورالمالکی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ شیعہ جنگجوؤں کے خلاف لڑائی آخر تک جاری رکھیں گے۔ بصرہ میں شیعہ ملیشیاؤں اور عراقی سیکیورٹی افواج کے درمیان جھڑپوں کو اب تین دن ہو چکے ہیں۔ عراق کے جنوبی شہر بصرہ سے ملنے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ عراقی فوج اور مہدی ملیشیا کے مابین تیسرے دن بھی شدید لڑائی جاری رہی جبکہ عراقی دارالحکومت بغداد میں پُر تشدد جھڑپوں کے بعد حکام نے کرفیو لگا دیا ہے۔ بصرہ میں شیعہ ملیشیا کے خلاف عراقی فوج کی کارروائی کے بعد تشدد کے واقعات میں اب تک ستر سے زائد لوگ ہلاک جبکہ سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ |
اسی بارے میں شام میں عراقی مہاجرین، انسانی المیہ21 March, 2008 | آس پاس بغداد: راکٹوں کی بوچھاڑ، 50ہلاک23 March, 2008 | آس پاس اسرائیل سے انتقام لیں:ایمن الظواہری 24 March, 2008 | آس پاس عراق:4 ہزار امریکی فوجی ہلاک24 March, 2008 | آس پاس لڑائی پھیل گئی، چھیالیس ہلاک25 March, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||