BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 March, 2008, 11:49 GMT 16:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خواتین سے امتیازی سلوک پر مقدمات
ترکی میں تاحال حکومت سازی اور دیگر اہم شعبوں میں خواتین کو قابل ذکر نمائندگی حاصل نہیں ہے: رپورٹ
یوم خواتین کے موقع پر ترکی میں حقوقِ نسواں کی کارکنوں نے اعلان کیا ہے کہ خواتین کے خلاف نامناسب زبان استعمال کرنے یا ان کے ساتھ کسی قسم کا امتیازی سلوک کرنے والوں کو مقدمات کا سامنا کرنے پڑے گا۔

اس اعلان کے بعد ترکی میں مردوں کی برتری کے حامیوں کو احتیاط کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ان کی حالیہ مہم سنیچر کو یوم خواتین کے موقع پر شروع کی جا رہی ہے۔ تاہم اس موقع پر جو اعداد وشمار سامنے آئے ہیں ان کے مطابق ترکی میں تاحال حکومت سازی اور دیگر اہم شعبوں میں خواتین کو قابل ذکر نمائندگی حاصل نہیں ہے۔

استنبول میں بی بی سی کی نامہ نگار سارا رینسفورڈ کے مطابق یہ خواتین کےساتھ کسی قسم کا امتیازی سلوک برداشت نہ کرنے کی مہم ہے۔ حقوق نسواں کی نگران تنظیمیوں نے کہا ہے کہ خواتین کے ساتھ توہین آمیز سلوک کو کسی طور برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایسا کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جائےگا۔

کارکنوں کا پہلا نشانہ استنبول کی مسجد کے ایک امام ہیں جنہوں نے اطلاعات کے مطابق مسجد میں آنے والوں کو کہا تھا کہ خواتین کو کام کے لیے گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے کیونکہ وہ اپنے جنسی ہیجان کو چھپا نہیں سکتیں اور شوہروں سے وفادار رہنے کے حوالے سے ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا جبکہ اگلا نشانہ فٹ بال ٹیم کے ایک منیجر ہیں جنہوں نے ٹیم کی ہار کے موقع پر کھلاڑیوں پر’عورتوں کی طرح سے کھیلنے‘ کا الزام لگایا تھا۔

علاوہ ازیں حقوقِ نسوان کی کارکنان شہر کی سینکڑوں کونسلوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں جنہوں نے دو سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی مصیبت زدہ خواتین کے لیے قانوناً لازمی قرار دیئے جانے والے شیلٹرز ابھی تک قائم نہیں کیے ہیں۔

دوسری طرف قابل ذکر نکتہ یہ ہے کہ اگر یہ مقدمات عدالت میں جاتے ہیں تو توقع ہے کہ اس کی سماعت مرد جج ہی کریں گے۔

یوم خواتین کے موقع سامنے آنے والی اس نئی رپورٹ کے نتائج کے مطابق ترکی میں تاحال خواتین کی ایک محدود تعداد حکومت، تعلیمی اور عدالتی شعبوں کے کلیدی عہدوں پر کام کر رہی ہے۔ رپورٹ کو مرتب کرنے والے گروپ ’قادر‘ نے حکومت سے اس مسئلے کے حل کے لیے خواتین کے لیے کم سے کم تیس فیصد کوٹہ مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی بارے میں
اسلام کی نئی خواتین مبلغ
25 February, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد