’عورت اپنےآپ پر ترس کھانا بندکرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھ مارچ خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔سماجی تنظیمیں اس دن کی یاد میں اکثر مختلف پروگرام کرتی ہیں۔ چند ممالک اس روز خواتین کے لیے کچھ قوانین بناتے ہیں اور یہ دن یوں ہی گزر جاتا ہے۔ قوانین کاغذات پر رہ جاتے ہیں اور عورتوں کے خلاف جرائم میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ بیشتر دفاتر میں ان کا استحصال عام سی بات ہے تو سیاست میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ آج تک پارلمینٹ میں خواتین کے لیے ریزرویشن بل پاس نہیں ہو سکا۔ گھرکی چاردیواری میں گھریلو تشدد کی شکار اکثر خواتین و سماج میں بدنامی کے خوف سے اسے برداشت کر کے زندگی گزارنے پر مجبور ہوتی ہیں اور جو ہمت کرتی ہیں وہ عدالت کے سست روی سے کام کاج کرنے یا قانونی پیچدگیوں کی وجہ سے عدالت کے چکر کاٹتی رہ جاتی ہیں۔ سماج میں اتنی ناانصافیوں کے باوجود ایسی ہزارہا خواتین ہیں جو آج کے اس دور میں نہ صرف اپنے لیے جینے کی راہ نکال چکی ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی مشعل راہ بنی ہیں۔ ہم نے جن خواتین کو انٹرویو کے لیے منتخب کیا ان میں بیشتر متوسط طبقہ سے تعلق رکھتی ہیں لیکن زندگی میں کافی دشواریوں کے باوجود انہوں نے اپنا مقام بنانےمیں کامیابی حاصل کی۔ایسی ہی چند خواتین سے بی بی سی نے بات کی اور ان کے خیالات جاننے کی کوشش کی۔ ’ کون کہتا ہے عورت کمزور ہوتی ہے اور وہ کسی بھی معنی میں مردوں سے کم ہے؟ میں سمجھتی ہوں ہمیں اپنے آپ پر ترس کھانا بند کرنا چاہیے، بات صرف ہمت اور جذبہ کی ہے ہر منز
مس زیدی نے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔اس کے بعد سے انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔متوسط گھرانے میں پیدا ہوئی زیدی کے والد ممبئی کے ایک کالج کے پرنسپل ہیں اور والدہ بھی اعلی تعلیم یافتہ ہیں۔ شمیلہ زیدی کے تعلیم یافتہ گھرانےمیں پیدا ہونے کے باوجود والدین کو انہیں ملازمت کی اجازت دینے میں کچھ ہچکچاہٹ محسوس ہوئی لیکن انہوں نے ہار نہیں مانی۔ ’ ہم جب تک صرف اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر محدود دائروں میں رہیں گے تو ترقی نہیں کر سکیں گے۔ دوسری قوموں کی خواتین آگے بڑھ چکی ہیں اور ہمیں ترقی کرنا ہے تو ان سے زیادہ محنت کر کے آگے بڑھنا ہو گا۔‘ مس زیدی اپنے کام سے مطمئن ہیں۔وہ اپنی بہنوں کو تعلیم کے میدان میں یوں پیچھے دیکھ کر کڑھتی ہیں۔ہماری قوم اور خاص طور پر ان کی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہیے۔ جب تک خواندگی کی شرح ہم میں صد فیصد نہیں ہوتی ہم اسی طرح پسماندہ ہی رہیں گے۔‘ فرحانہ شاہ پیشے سے وکیل ہیں۔ آج کل اخبارات اور ٹی وی پر ان کے انٹرویو زیادہ دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ وہ فلم سٹار سنجے دت سمیت انیس سو ترانوے ممبئی بم دھماکوں کے بیشتر ملزمان کی وکیل ہیں۔ محترمہ شاہ نے اپنے وکالت کے کیریئر کی شروعات ہی ٹاڈا عدالت میں بم دھماکہ کیس لڑنے سے کی۔وہ پہلے ایک جونیئر وکیل تھیں لیکن بعد میں انہوں نے اپنے طور پر کیس لینا شروع کیا اور آج وہ اپنے میدان میں پختہ کھلاڑی بن چکی ہیں۔ دو بچوں کی ماں شاہ کے لیے یہ راستے اتنے آسان نہیں تھے۔گھر، بیوی اور ماں کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے وکالت کرنا کوئی آسان بات نہیں تھی۔ شاہ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ غریب ٹاڈا قیدیوں سے کیس لڑنے کی فیس نہیں لیتی۔ مس شاہ مانتی ہیں کہ ’عورت کو خدا نے رحم دل بنایا ہے اور اس پر کئی ذمہ داریاں عائد کی ہیں، عورت جذباتی طور پر مرد سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے اس لیے میں سمجھتی ہوں کہ وہ ہر مشکل کا سامنا مردوں سے بہتر طریقہ سے کر سکتی ہے۔‘ وقارالنساء انصاری نے پندرہ برس قبل سیاست میں قدم رکھا اور اب وہ تیسری مرتبہ کارپوریشن کا الیکشن جیت چکی ہیں۔ سرگرم سیاست میں آنے سے قبل وقارالنساء سکول ٹیچر تھیں۔
مسز انصاری کہتی ہیں کہ خراب سسٹم کی دہائی دینے سے بہتر ہے کہ ہم اس سسٹم کا حصہ بن کر اسے بدلنے کی کوشش کریں۔وہ چاہتی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں عورتیں سیاست میں آئیں تاکہ وہ خواتین کی فلاح کے لیے کچھ مثبت کام کر سکیں۔‘ مسز انصاری انتہائی بیباک خاتون ہیں اور اکثرمسلم مسائل پر ان کی جھڑپ شیوسینا کی خواتین سے ہوتی رہتی ہے۔مسز انصاری وہ پہلی خاتون ہیں جو کارپوریشن کے اجلاس میں حجاب کے ساتھ بیٹھتی ہیں۔ فریدہ لامبے نرملہ نکیتن کالج آف سوشل سائنس کی وائس پرنسپل اور اسی کے ساتھ بچوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی ایک سرگرم سماجی کارکن۔ مسز لامبے ایک طویل عرصہ سے بےگھر بچوں کی تعلیم اور بچہ مزدوری کے خلاف تحریک کا حصہ ہیں۔ مسز لامبے کے مطابق ’میں آج کی عورت میں وہ جذبہ دیکھتی ہوں جو کبھی ہمارے دور میں نہیں تھا شاید اس لیے اس وقت انہیں اتنی آزادی نہیں دی گئی تھی اور تعلیم کے میدان میں وہ کافی پیچھے تھیں لیکن آج کی عورت اپنا حق اور اپنا مقام جانتی ہے یہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔‘
حسینہ خان عورتوں کے حقوق کے لیے لڑنے والی تنظیم آواز نسواں کی صدر ہیں۔دس برس قبل انہوں نے اس تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ مس خان کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنے اطراف عورتوں کو مردوں کے ظلم کا نشانہ بنتے دیکھا۔’ گھریلو تشدد نے مجھے بہنوں کی مدد پر اکسایا۔‘ آج وہ ایسی بہنوں کی لڑائی لڑتی ہیں اور اس کے لیے کبھی عدالت تو کبھی پولس سٹیشن کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔ وہ اپنی تنظیم میں کم تعلیم یافتہ خواتین کو کمپیوٹر کی تعلیم دیتی ہیں تاکہ بے سہارا خواتین اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکیں۔ | اسی بارے میں حقوق نسواں کی تمام علمبردارگرفتار04 March, 2007 | آس پاس عورتوں کی عالمی دن پر کراچی ریلی07 March, 2007 | پاکستان حقوق نسواں، دوسرا بِل اسمبلی میں13 February, 2007 | پاکستان ایرانی خواتین کا بھوک ہڑتال کا اعلان07 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||