حقوق نسواں کی تمام علمبردارگرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے دارالحکومت تہران میں ایک عدالت کے باہر مظاہرے سے حکام نے ملک کی پچیس اہم خواتین کو حراست میں لے لیا ہے۔ یہ خواتین ان پانچ خواتین کے ساتھ یکجہتی کے لیے مظاہرہ کر رہی تھیں جنہیں گزشتہ سال جون میں خواتین سے متعلق کچھ قوانین کے خلاف احتجاج کرنے پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان خواتین کا خیال تھا کہ مذکورہ قوانین عورتوں کے خلاف تعصب پر مبنی ہیں۔ پانچوں خواتین پر قومی سلامتی کے لیے خطرہ پیدا کرنے، ریاست کے خلاف پراپیگنڈا کرنے اور غیر قانونی اجتماع میں شرکت کرنے کے الزامات کے تحت مقدمات قائم کیے گئے تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے ایرانی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ یہ مقدمات واپس لیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ خواتین اپنا پر امن اجتماع کی آزادی کا حق استعمال کر رہی تھیں۔ جن خواتین کو مقدمات کا سامنا ہے انہوں نے گزشتہ سال ایک مظاہرے کا اہتمام کیا تھا جسے پولیس نے تشدد سے روک دیا تھا موقع پر موجود ستر افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے زیادہ تر افراد راہگیر تھے۔ عدالت کے باہر کیے جانے والے مظاہرے کے موقع پر موجود بی بی سی کی نامہ نگار فرانسس ہیریسن کا کہنا ہے کہ حراست میں لی جانے والے بتیس خواتین میں تقریباً وہ تمام خواتین شامل ہیں جو ایران میں حقوق نسواں کی تحریک کی علمبردار سمجھی جاتی ہیں۔
انقلابی عدالت کے باہر خواتین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا کہ ’پرامن اجتماع ہمارا حق ہے۔‘ نامہ نگار کے مطابق مظاہرے کا مقصد دنیا کی توجہ مردوں کے لیے ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کے حق اور میاں بیوی کی علیحدگی کی صورت میں بچے کی سپردگی (کسٹڈی) جیسے اسلامی قوانین کی جانب دلانا تھا۔ مذکورہ قوانین اکثر خواتین کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔ مقدمے میں ملوث پانچوں خواتین جب کارروائی کے بعد عدالت سے باہر نکلیں تو انہیں ان کی وکیل سمیت دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ ان میں سے ایک خاتون پروین ادالان کا کہنا تھا کہ اگرچہ انٹیلیجنس ادارے ان سے پانچ مرتبہ تفتیش کر چکے ہیں لیکن ابھی تک ان کے خلاف پیش کیے جانے والے شواہد ان کے وکلاء کو مہیا نہیں کیے گئے ہیں۔ مظاہرے میں شامل ایک خاتون ناہید مرہاج نے الزام لگایا کہ پولیس کے سربراہ نے ’ نامناسب زبان استعمال کی اور کہا کہ آپ جیسی عورتوں کے لیے اس معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔‘ نامہ نگار نے مزید بتایا کہ پولیس اور عام کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے پہلے صحافیوں اور راہ گیروں کو بھگایا اور پھر خواتین کو ایک پردوں والی بس میں ڈال کر لے گئے۔ مظاہرین کا خیال تھا کہ حکام کی کوشش ہے کہ وہ خواتین کو اس قدر تنگ کریں کہ وہ آٹھ مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر کسی بھی قسم کے احتجاج سے باز رہیں۔ | اسی بارے میں ایران: سترہ شدت پسند ہلاک01 March, 2007 | آس پاس ایران: خلائی راکٹ کا کامیاب تجربہ25 February, 2007 | آس پاس ایران: زاہدان میں مسلح جھڑپیں17 February, 2007 | آس پاس اسلام کی نئی خواتین مبلغ 25 February, 2007 | آس پاس ترکی: خودکشی پر ’مجبور‘ خواتین24 May, 2006 | آس پاس اسلامی موضوعات پر ایرانی کارٹون11 May, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||