ترکی: خودکشی پر ’مجبور‘ خواتین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کا ایک وفد ترکی کے جنوب مشرق میں واقع بتمان علاقے کا دورہ کرے گا تاکہ وہاں خواتین میں خودکشی کرنے کے واقعات میں اضافے پر تحقیقات کی جاسکیں۔ خواتین کے خلاف تشدد سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ یاکن ارترک اپنے دس روزہ دورے کے دوران چار شہروں کا دورہ کریں گی۔ وہ یہ جاننے کی کوشش کریں گی کہ ان دعووں میں کتنی صداقت ہے کہ ان خود کشیوں کا تعلق ملک میں ’عزت کے نام پر‘ جرائم کرنے والوں کے لیئے سخت قوانین سے ہے۔ اس سال اب تک بتمان میں 36 خواتین خودکشی کر چکی ہیں جو پچھلے پورے سال کے دوران ہونے والی خودکشیوں سے زیادہ تعداد ہے۔ ارترک بتمان میں ہفتہ سے زیادہ قیام کریں گی تاکہ ان اموات کی تحقیقات کی جاسکیں۔ وہ علاقے کے حکام، غیر سرکاری تنظیموں اور چند متاثرہ خاندانوں سے بھی ملیں گی۔ کچھ کا خیال ہے کہ خودکشی کے بڑھتے واقعات کا تعلق پابندیوں سے بھرپور طرز زندگی سے ہے جبکہ کئی لوگ کہتے ہی کہ بہت سی خواتین کو خودکشی کے لیئے مجبور کیا جاتا ہے تاکہ خاندان پر ’عزت کے نام پر قتل‘ کا الزام نہ لگ سکے۔ یہ خواتین کمرے میں بند ہوکر یا تو گلے میں پھندا ڈال لیتی ہیں یا پھر گولی مار لیتی ہیں۔ ’غیرت کے نام پر قتل‘ کا فیصلہ خاندانی کونسل کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور اس میں عموماً گھر کا کوئی مرد ملوث ہوتا ہے۔ تاہم حال ہی میں نافذ کی گئی اصلاحات کا مطلب ہے کہ ایسے افراد کو سخت سزا کا سامنا ہو سکتا ہے جس سے بچنے کے لیئے خواتین کو خودکشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں ترکی میں حجاب پر پابندی کی تائید 10 November, 2005 | آس پاس قومی تضحیک: سماعت رُک گئی16 December, 2005 | آس پاس ترکی کے متنازعہ قانون میں ’ترمیم‘29 December, 2005 | آس پاس پوپ پر حملہ کرنے والا پھر جیل میں21 January, 2006 | آس پاس ترک وزیراعظم پر تنقید کا قصہ11 May, 2006 | آس پاس عدالت میں فائرنگ، جج ہلاک17 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||