’مغرب کی عورت بھی کمزور ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’مغرب کی عورت بھی کمزور ہے۔‘ اس خیال کا اظہار پاکستانی پنجاب کے گاؤں میروالا کی مختار مائی نے نیو یارک میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا: ’یہ ایک الگ مسئلہ ہے کہ یہاں کی عورت کو انصاف ملتا ہے اور وہاں کی عورت کو انصاف نہیں ملتا لیکن عورت کے ساتھ زیادتی ہر جگہ ہوتی ہے۔ مختار مائی نے بتایا کہ انہیں امریکہ اور یورپ گھومنے اور یہاں کے لوگوں اور خواتین سے ملنے کے بعد اس کا احساس ہوا ہے کہ مغربی ملکوں میں اس بات کا بہت چرچا ہے کہ یہاں آزادی ہے لیکن یہاں بھی عورت کو نیچے رکھا جاتا ہے۔ ’خاص طور پر مجھے اس چیز سے اندازہ ہوا کہ جب میں سپین گئی تھی تو مجھے پتہ چلا کہ عورت بھی وہی کام کرتی ہے اور مرد بھی وہی کام کرتا ہے لیکن مرد کو زیادہ تنخواہ ملتی ہے عورت کو کم ملتی ہے۔ حالانکہ عورت سارا دن اسی طرح بھاگتی دوڑتی ہے۔‘ فرق انہیں دونوں جگہ یہ لگا کہ مغربی ممالک میں اگر کوئی عورت آواز اٹھائے یا اس کے ساتھ زیادتی ہو تو اسے انصاف زیادہ آسانی سے مل جاتا ہے جبکہ پاکستان میں عورتوں کے لیے انصاف حاصل کرنا خاصا مشکل ہے۔
مختار مائی امریکہ کے تین ہفتے کے دورے پر تھیں جس دوران انہوں نے واشنگٹن کے کینیڈی سنٹر میں وائٹل ووائسز نامی تنظیم کی طرف سے ایوارڈ وصول کیا۔ یہ ایوارڈ انہیں سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی اہلیہ اور نیویارک کی سنیٹر ہلری کلنٹن نے دیا۔ اس کے علاوہ نیو یارک میں اقوام متحدہ میں انہیں خصوصی طور پر دعوت دی گئی اور انہیں دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کی علامت کے طور پر سراہا گیا۔ مختاراں مائی نے اقوام متحدہ میں انہیں دیکھنےاور ان کی باتیں سننے کے لیے آئے لوگوں کو بتایا کہ جب سے انہوں نے میروالا میں سکول کھولے ہیں اور خواتین کے حقوق کی جدوجہد شروع کی ہے مقامی لوگوں کے خیالات بھی بدل گئے ہیں۔ ’جہاں لوگ اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیجنا چاہتے تھے وہاں اب ان کے کھولے سکولوں میں پانچ سو کے قریب بچے بچیاں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔‘ خود مختار مائی بھی اپنے ہی سکول میں تعلیم حاصل کرتی ہیں اور پانچویں جماعت تک پہنچ گئی ہیں۔ انہیں شاعری کا بہت شوق ہے اور فارغ وقت میں شاعری پڑھنا ان کے محبوب مشاغل میں سے ہے۔ اس کے علاوہ انہیں سرائیکی گانوں سے اتنا لگاؤ ہے کہ اس دفعہ وہ خاص طور پر پاکستان سے اپنا چھوٹا ٹیپ ریکارڈر اور سرائیکی گانوں کی کیسٹیں ساتھ لائی تھیں۔ ان کے سب سے پسندیدہ گلوکار عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی ہیں۔ مختار مائی کے اس دورے کے امریکی میزبانوں میں مشہور جریدہ ٹائم میگزین بھی شامل تھا جس نے سن 2006 میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ با اثر 100 افراد کی جو فہرست شائع کی اس میں بھی مختار مائی کا نام شامل تھا۔ اس فہرست میں مائی کے علاوہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف، امریکی صدر جارج بش، سابق امریکی صدر بل کلنٹن، امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائیس اور مائیکروسافٹ کے چئیرمین بل گیٹس کے نام بھی شامل تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||