BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 May, 2006, 05:58 GMT 10:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مغرب کی عورت بھی کمزور ہے‘

مغرب میں انصاف آسانی سے ملتا ہے، پاکستان میں نہیں: مختار مائی
’مغرب کی عورت بھی کمزور ہے۔‘ اس خیال کا اظہار پاکستانی پنجاب کے گاؤں میروالا کی مختار مائی نے نیو یارک میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا: ’یہ ایک الگ مسئلہ ہے کہ یہاں کی عورت کو انصاف ملتا ہے اور وہاں کی عورت کو انصاف نہیں ملتا لیکن عورت کے ساتھ زیادتی ہر جگہ ہوتی ہے۔

مختار مائی نے بتایا کہ انہیں امریکہ اور یورپ گھومنے اور یہاں کے لوگوں اور خواتین سے ملنے کے بعد اس کا احساس ہوا ہے کہ مغربی ملکوں میں اس بات کا بہت چرچا ہے کہ یہاں آزادی ہے لیکن یہاں بھی عورت کو نیچے رکھا جاتا ہے۔

’خاص طور پر مجھے اس چیز سے اندازہ ہوا کہ جب میں سپین گئی تھی تو مجھے پتہ چلا کہ عورت بھی وہی کام کرتی ہے اور مرد بھی وہی کام کرتا ہے لیکن مرد کو زیادہ تنخواہ ملتی ہے عورت کو کم ملتی ہے۔ حالانکہ عورت سارا دن اسی طرح بھاگتی دوڑتی ہے۔‘

فرق انہیں دونوں جگہ یہ لگا کہ مغربی ممالک میں اگر کوئی عورت آواز اٹھائے یا اس کے ساتھ زیادتی ہو تو اسے انصاف زیادہ آسانی سے مل جاتا ہے جبکہ پاکستان میں عورتوں کے لیے انصاف حاصل کرنا خاصا مشکل ہے۔

ٹائم میگزین کے 100 بااثر افراد میں شامل چند نام
مختار مائی
صدر جنرل پرویز مشرف
امریکی صدر جارج بش
سابق امریکی صدر بل کلنٹن
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائیس
مائیکروسافٹ کے چئیرمین بل گیٹس

مختار مائی امریکہ کے تین ہفتے کے دورے پر تھیں جس دوران انہوں نے واشنگٹن کے کینیڈی سنٹر میں وائٹل ووائسز نامی تنظیم کی طرف سے ایوارڈ وصول کیا۔ یہ ایوارڈ انہیں سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی اہلیہ اور نیویارک کی سنیٹر ہلری کلنٹن نے دیا۔

اس کے علاوہ نیو یارک میں اقوام متحدہ میں انہیں خصوصی طور پر دعوت دی گئی اور انہیں دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کی علامت کے طور پر سراہا گیا۔

مختاراں مائی نے اقوام متحدہ میں انہیں دیکھنےاور ان کی باتیں سننے کے لیے آئے لوگوں کو بتایا کہ جب سے انہوں نے میروالا میں سکول کھولے ہیں اور خواتین کے حقوق کی جدوجہد شروع کی ہے مقامی لوگوں کے خیالات بھی بدل گئے ہیں۔

’جہاں لوگ اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیجنا چاہتے تھے وہاں اب ان کے کھولے سکولوں میں پانچ سو کے قریب بچے بچیاں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔‘ خود مختار مائی بھی اپنے ہی سکول میں تعلیم حاصل کرتی ہیں اور پانچویں جماعت تک پہنچ گئی ہیں۔

انہیں شاعری کا بہت شوق ہے اور فارغ وقت میں شاعری پڑھنا ان کے محبوب مشاغل میں سے ہے۔ اس کے علاوہ انہیں سرائیکی گانوں سے اتنا لگاؤ ہے کہ اس دفعہ وہ خاص طور پر پاکستان سے اپنا چھوٹا ٹیپ ریکارڈر اور سرائیکی گانوں کی کیسٹیں ساتھ لائی تھیں۔ ان کے سب سے پسندیدہ گلوکار عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی ہیں۔

مختار مائی کے اس دورے کے امریکی میزبانوں میں مشہور جریدہ ٹائم میگزین بھی شامل تھا جس نے سن 2006 میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ با اثر 100 افراد کی جو فہرست شائع کی اس میں بھی مختار مائی کا نام شامل تھا۔ اس فہرست میں مائی کے علاوہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف، امریکی صدر جارج بش، سابق امریکی صدر بل کلنٹن، امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائیس اور مائیکروسافٹ کے چئیرمین بل گیٹس کے نام بھی شامل تھے۔

مختار مائی حکومت اور مائی
’یہ ایک اچھی تبدیلی ہے‘
مختار مائی کی قیادت
خواتین کے عالمی دن پر مختار مائی نے جلوس نکالا
مختار مائیسوانح عمری
مختاراں مائی کی سوانح عمری کی رونمائی
مختار مائی’جنگ لڑ رہی ہوں‘
مختار مائی کا امریکی تنظیموں سے خطاب
ضمیمہ: مختار مائی
پاکستان مشرف کا ہی ملک نہیں: مختار مائی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد