BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 March, 2008, 08:02 GMT 13:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عزت بچانے کے لیے جھوٹ بھی جائز‘

شادی شدہ اطالوی خواتین اب اپنے معاشقوں کے بارے میں جھوٹ بھی بول سکتی ہیں
اٹلی کی سب سے بڑی اپیل عدالت نے قرار دیا ہے کہ شادی شدہ خواتین اپنی عزت اور وقار بچانے کے لیے جھوٹ بول سکتی ہیں۔

اپیل عدالت نے یہ اہم فیصلہ ایک اڑتالیس سالہ خاتون کے مقدمہ کی سماعت کے بعد دیا جس کو ایک ماتحت عدالت کے سامنے غلط بیانی کرنے پر سزا دی گئی تھی۔ عدالت کے سامنے شہادت دیتے ہوئے انہوں نے اس بات سے انکار کیا تھا کہ انہیں اپنے ایک عاشق کو اپنا موبائل ادھار دیا تھا۔

اپیل عدالت نے اپنے فیصلے میں ماتحت عدالت کی اس رائے سے اتفاق نہیں کیا کہ خاتون نے کسی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ شادی سے باہر جنسی تعلقات کو چھپانے کے لیے سچ سے روگردانی جائز ہے۔

اٹلی جیسے کیھتولک اکثریت رکھنے والے ملک میں عدالتوں سے عام طور پر یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ جھوٹ اور شادی سے باہر جنسی تعلقات کو برا خیال کریں گے۔

لیکن اس مقدمے میں ایسا نہیں ہوا۔

کارلہ نامی جس عورت نے یہ اپیل دائر کی تھی اس کا تعلق ٹسکنی کے ساحلی علاقے میں واقع قصبے پورٹو ایرکول سے بتایا جاتا ہے۔

اس خاتون نے اپنا موبائل اپنے خفیہ عاشق جیوانی کو دیا تھا جس نے اس ٹیلی فون کے ذریعے کارلہ کے ناراض شوہر ونسینزو کو کال کیا اور ان کی بے عزتی کی۔

جیوانی کو ایک مقامی عدالت نے ونسینزو کی بے عزتی کرنے پر غیر شائستہ رویے کی سزا سنائی جبکہ کارلہ کو اعانت جرم کا مرتکب پایا گیا تھا۔

تاہم کاسیشن کی اپیل عدالت نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ ایک شادی شدہ خاتون کے لیے ایک عاشق کا ہونا ایک ایسی صورت حال ہے جس سے خاندان اور دوستوں میں اس کی شہرت اور وقار کو نقصان پہنچتا ہے۔ اپیل عدالت نے کہا ہے کہ ایسی صورت حال میں خاتون کے لیے عدالتی تحقیقات میں بھی جھوٹ بولنا جائز ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس عدالتی فیصلے کا اطلاق ان شادی شدہ مردوں پر بھی ہوتا ہے جنہوں نے خفیہ طور پر معاشقے چلا رکھے ہوں۔

کاسیشن کی اپیل عدالت کے زیادہ تر جج بڑی عمر کے مرد ہوتے ہیں اور اس عدالت نے ماضی میں بھی کئی متنازع فیصلے دیئے ہیں۔

اس عدالت کے ایک متنازع فیصلے کے مطابق جینز میں ملبوس ایک خاتون سے جنسی عمل زنا کی تعریف میں نہیں آتا کیونکہ جینز صرف خاتون کی مرضی سے ہی اتاری جا سکتی ہے۔

اس فیصلہ کو خواتین تنظیموں کے احتجاج کے بعد کالعدم قرار دیا گیا تھا۔

سیکس اینڈ دی سٹی کی اداکارہخواتین اور سیکس
ایک رات کا تعلق غلط ہے: خواتین سروے
اونچی ایڑی کے جوتےاونچی ایڑی کا فائدہ
’ہائی ہِیل‘ جنسی زندگی کے لیے بہتر ہے
پُھندنے اتار دیں
سوازی لینڈ میں جنسی پابندی ختم کرنے کا اعلان
سیکس سروےبرطانوی سروے
عمر سے پہلے جنسی تعلق کا رجحان
نامردمی: چینی لوگوں میں رائے شمارینیا طبی مطالعہ
چینی مرد اور نامردمی کی وجوہات
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد