اونچی ایڑی سے جنسی زندگی بہتر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک نئی تحقیق کے مطابق اونچی ایڑی کے جوتے پہننے سے عورتوں کی زیرِ ناف اور ٹانگوں کے درمیانی پٹھے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں اور جس سے ان کی جنسی زندگی میں بہتری آتی ہے۔ گردوں کے امراض کی ایک اطالوی ماہر جو خود بھی ’جنسی جوتوں کی عاشق‘ نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اونچی ایڑی کے جوتے خواتین کی صحت کے لیے اتنے مضر نہیں ہوتے جتنے کہ کچھ لوگ بتاتے ہیں۔ اونچی ایڑی کے جوتوں کے ساتھ کئی بیماریوں کو منسلک کیا جاتا ہے جن میں گٹے پڑنا یعنی کورن اور شیزوفرینیا جیسے ذہنی امراض۔ ڈاکٹر ماریا سیروٹو نے گردوں کے امراض یورپی ماہرین کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ان کی تحقیق سے واضح ہو جائے گا کہ اونچی ایڑی کے جوتوں کی حمایت کا وقت آن پہنچا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پچاس سال سے کم کی ایسی چھیاسٹھ خواتین پر تحقیق کی جو دو انچ اونچی ایڑی کے ایسے جوتے استعمال کرتی ہیں جن سے ان کے پاؤں زمین سے پاؤں پندرہ درجے کے زاویے پر رہتے ہیں جس کے نتیجے میں نہ صرف ان کی چال ڈھال سیدھی ایڑی کے جوتے پہننے والی خواتین کے مقابلے میں زیادہ بہتر رہتی ہے بلکہ ان کے زیر ناف پٹھے متحرک بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں اونچی ایڑی والے جوتے پہننے والی عورتوں کی جنسی زندگی بھی زیادہ بہتر ہوتی ہے۔
زیرناف حصے کے پٹھے خاص طور پر عورتوں کی نسائیت کے لیے زیادہ اہم ہوتے ہیں کیونکہ اس سے نہ صرف ان کی جنسی زندگی اور اطمینان کا تعلق ہے بلکہ مثانے، اجابت اور رحم کا بھی تعلق ہے اور زیر ناف پٹھوں کی مضبوطی ان اعضاء کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے۔ لیکن زچگی اور بچوں کے بعد اور عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اکثر عورتوں کے زیرناف عضو کمزور ہو جاتے ہیں جس کے لیے مختلف ورزشیں بتائی جاتی ہیں ڈاکٹر ماریا کو توقع ہے کہ ان کی تحقیق کے نتیجے میں عورتوں کو یہ ورزشیں کرنے کی ضرورت نہیں رہےگی۔ ان کا کہنا ہے ’عورتوں کو اکثر صحیح ورزش کرنے میں دشواری ہوتی ہے اور اونچی ایڑی کے جوتے یہ مسئلہ حل کر سکتے ہیں۔‘ لیکن بریڈفورڈ میں خواتین کے لیے جسمانی وزشوں کی ماہرگل بروک کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اونچی ایڑی کے جوتے سے زیر ناف پٹھوں کی کارکردگی بہتر ہو جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’لیکن یہ ضرور ہے کہ جو عورتیں اونچی ایڑی کے جوتے استعمال کرتی ہیں انہیں اس تحقیق سے زیادہ اعتماد حاصل ہو گا لیکن اس سے یہ نہیں ہو گا کہ عورتوں کو اپنے اس اہم ترین عضو کے لیے باقاعدہ ورزش کی ضرورت ہی نہیں رہے گی‘۔ | اسی بارے میں جنسی ویب سائٹس:علیحدہ پتہ02 June, 2005 | نیٹ سائنس بائیں ہاتھ والیوں میں چھاتی کا کینسر26 September, 2005 | نیٹ سائنس مرد سے عورت بننے پر اکثریت خوش23 September, 2007 | نیٹ سائنس کافی اسقاطِ حمل کا خطرہ بڑھاتی ہے 21 January, 2008 | نیٹ سائنس پاکستان: فحاشی کے5ء11 لاکھ صارف23 August, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||