مرد سے عورت بننے پر اکثریت خوش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیچیدگیوں کی بڑی شرح کے باوجود برطانیہ میں تبدیلی جنس کا آپریشن کرانے والے مردوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ وہ خوش ہیں۔ لیسٹر یونیورسٹی سے منسلک ہسپتال کے ایک جائزے کے مطابق جنس کی تبدیلی کا آپریشن کرانے والے دو سو بیس افراد میں سے اٹھاسی فیصد نے کہا کہ وہ اس سے مطمعن ہیں جبکہ سات فیصد کا کہنا تھا کہ وہ ناخوش ہیں۔ ایک طبعی جریدے میں شائع ہونے والے اس جائزے کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک ماہر کا کہنا تھا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے جن لوگوں نے یہ آپریشن کرایا تھا وہ اس کا پکّا ارادہ رکھتے تھے۔ جائزے کے مطابق جب آپریشن کے بعد دو سو بیس کے انٹرویو کیے گئے تو ان میں سے ستّر افراد نے بتایا کہ آپریشان کے بعد انہیں پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کسی مرد کو آپریشن کے ذریعے عورت بنانے کے لئے ایک بڑا آپریشن کرنا پڑتاہے کیونکہ اس کے دوران نہ صرف ان کے مردانہ اعضاء جسم سے الگ کرنے پڑتے ہیں بلکہ جسم سے نکالے ہوئے ٹِشوز سے ان کے لئے زنانہ اعضاء بھی بنانا پڑتے ہیں۔
ایسے آپریشن کے لئے حکومت کی طرف سے دی گئی ہدایات کے مطابق اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ مریض کو نفسیاتی تربیت دی جائے تاکہ اس بات کا یقین کیا جا سکے کہ وہ اتنے بڑے آپریشن کے لئے تیار ہے اور آپریشن کے بعد ’بطور عورت‘ زندہ رہنے اور جسمانی تبدیلیوں کے عمل کو پوری طرح سنبھالنے کا اہل ہے۔ مزید آپریشن ان ستّر افراد نے جن پیچیدگیوں کی شکایات کی ان میں جسم پر غیر ضروری بالوں کا آنا، نئے زنانہ جنسی اعضاء کا اپنی جگہ سے ہِل جانا اور بعض مریضوں میں نئے لگائے ہوئے ٹشوز کا مُردہ ہو جانا شامل ہیں۔ ان پیچیدگیوں کے نتیجے میں ہو سکتا ہے کہ مریض کے مزید آپریشن کرنے کی ضرورت پڑ جائے، تاہم مذکورہ ستّر افراد میں سے تین تہائی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے آپریشنز سے مطعمن رہے ہیں۔
جائزے کے مصنف یورالوجسٹ جوناتھن گوڈر کا کہنا ہے کہ ’مرد کو عورت بنانے کے پیچیدہ آپریشن کی کامیابی کا انحصار کئی عوامل پر ہوتا ہے جن میں سرجن کی تکنیکی مہارت اور نئے اعضاء بنانے کے لئے درکار ٹِشوز کی مقدار اور کوالٹی اہم ہیں۔ اس کے علاوہ آپریشن کی کامیابی کا انحصار اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ مذکورہ مریض کی توقعات کتنی حقیقت پسندانہ ہیں۔‘ جائزے میں شامل مریضوں میں سے ایک چوتھائی کا کہنا تھا کہ آپریشن کے بعد وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مکمل جنسی فعل سر انجام دینے میں کامیاب رہے ہیں جبکہ نصف کا کہنا تھا کہ وہ بطور عورت جنسی تسکین سے بھی لطف اندوز ہوئے۔ جنسی تبدیلیوں کے ایک ماہر کلینیکل سائیکالوجسٹ ڈاکٹر کرسٹوفر ولیمز کا جائزے کے بارے میں کہنا ہے کہ اصل میں ہوتا یہ ہے کہ مریضوں کی اکثریت آپریشن کے مرحلے تک پہنچنے سے پہلے ہی خود کو ذہنی طور پر پیچیدگیوں کا سامنا کرنے کے لئے تیار کر چکی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ اتنے زیادہ لوگوں کا اپنے آپریشنز سے مطمعن ہونا نہ صرف مذکورہ سرجنوں کی مہارت کا ثبوت ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ مریض جنس کی تبدیلی کے مشکل آپریشن سے پہلے خود کو نفسیاتی طور کتنا اچھا تیار کرتے ہیں۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||