انٹرنیٹ پر بچے کی جنس کا تعین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیٹ پر ایک ایسے ٹیسٹ کی کِٹ برائے فروخت ہے جس کی مدد سے پیدا ہونے والے بچے کی جنس کا تعین زچگی کے چھٹے ہفتے میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی ڈی این اے ورلڈ وائڈ نے اس کٹ کی قیمت 189 پاؤنڈ (تقریباً تیئس ہزار پاکستانی روپے) مقرر کر رکھی ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کٹ کی وجہ سے بچے کی جنس خواہش کے مطابق نہ ہونے پر اسقاطِ حمل کی شرح میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ کٹ متعارف کرانے والی کمپنی اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ بچے کی جنس کا تعین ہوجانے پر والدین کو اس کے مطابق تیاری کرنے کا زیادہ وقت مل جاتا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کی کٹ کے ذریعے کیے گئے خون کے ٹیسٹ کے نتائج 99 فیصد درست ثابت ہو رہے ہیں، جبکہ غلط پیش گوئی پر پیسے واپس کر دیئے جاتے ہیں۔ زچگی کے ابتدائی ایام میں جنس کے تعین کے ٹیسٹ کا تصور کوئی نیا نہیں ہے۔ گزشتہ سال برطانیہ کے انسٹیٹوٹ آف چائلڈ ہیلتھ نے زچگی کے ساتویں ہفتے میں بچے کی جنس کے تعین کے کامیاب ٹیسٹ کیے تھے۔
تاہم ہسپتالوں میں عام طور پر زچگی کے بیسیویں ہفتے میں الٹرا ساونڈ کی مدد سے بچے کی جنس کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ ڈی این اے ورلڈ وائد کے ڈائریکٹر ڈیوڈ نکلسن کے مطابق لوگ ان کی پروڈکٹ میں بہت دلچپسی لے رہے ہیں۔ ’والدین بیس ہفتے تک ہونے والے بچے کی جنس کے تعین کا انتظار نہیں کرنا چاہتے‘۔ حاملہ خاتون کو اپنے خون کا اس کٹ کی مدد سے حاصل کردہ نمونہ کمپنی کی لیبارٹری کو تجزیے کے لیے بھیجنا ہوتا ہے، جس کا نتیجہ ڈاک کے ذریعے یا محفوظ پاس ورڈ کی مدد سے آن لائن بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ لیبارٹری تجزیے میں ماں کے خون میں بچے کا ڈی این اے تلاش کیا جاتا ہے۔ اگر یہ وائی کروموزوم ڈی این اے ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ کوکھ میں پلنے والا بچہ لڑکا ہے اور اگر ایسا نہیں ہے تو اتنے ہی یقین سے کہا جائے گا کہ لڑکی ہوگی۔ تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنس کے تعین کی بجائے توجہ ماں کی صحت اور بچے کی نشوونما پر ہونی چاہیے۔ |
اسی بارے میں وقت سے قبل پیدا ہونے کا ریکارڈ20 February, 2007 | نیٹ سائنس متبادل ماں کے ہاں پانچ جڑواں بچے28 April, 2005 | نیٹ سائنس بچی اپنی نانی کے پیٹ میں پلی01 October, 2005 | نیٹ سائنس بانجھ عورت کے ہاں بچے کی پیدائش25 September, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||