مرد اتنے باتونی جتنی عورتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں سائنسدانوں نے اس عام خیال کو رد کیا ہے کہ عورتیں مردوں سے زیادہ باتونی ہوتی ہیں۔ یہ تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے چار سو طلبہ کی انٹرنیٹ پر چیٹنگ کے ریکارڈ کا جائزہ لیا تو طلباء اور طالبات کے الفاظ کی تعداد میں کوئی خاص فرق سامنے نہیں آیا۔ جریدہ سائنس میں شائع ہونے والی یونیورسٹی آف ایریزونا کی اس تحقیق کے نتائج امریکہ میں ماضی میں کی جانے والی تحقیقوں کے برعکس ہیں۔ ماضی کی ریسرچ کے مطابق عورتیں مردوں سے تقریباً تین گنا زیادہ باتیں کرتی ہیں۔ انسانی تعلقات کے ماہرین کا کہنا تھا کہ اصل میں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کوئی کتنا سوشل ہے یا کتنا اپنے آپ میں رہتا ہے، اس بات کا تعلق کسی کے باتونی یا غیر باتونی ہونے سے نہیں ہے۔ حالیہ تحقیق میں شامل خواتین کے کہے ہوئے الفاظ کی روزانہ اوسط تعداد سولہ ہزار دو سو پندرہ تھی جبکہ مردوں کے اوسط الفاظ کی تعداد پندرہ ہزار چھ سو انہتر رہی۔تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ فرق کچھ زیادہ نہیں۔
اس سلسلے میں ریسرچ ٹیم کے سربراہ میتھیئس مہل کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ باتونی ترین اور خاموش ترین افراد کے الفاظ کے فرق، جو کہ پینتالیس ہزار الفاظ ہے، کو سامنے رکھیں تو پانچ سو الفاظ کا یہ فرق تو کچھ بھی نہیں۔‘ اس تحقیق میں سب سے زیادہ باتونی مرد کے الفاظ کی تعداد سینتالیس ہزار تھی جبکہ سب سے کم باتونی مرد کے الفاظ کی تعداد پانچ سو سے کچھ اوپر تھی۔ تاہم سائنسدانوں نے اعتراف کیا کہ ان کی تحقیق کےنتائج کا اطلاق تمام مردوں پر نہیں ہوتا کیونکہ انہوں نے صرف یونیورسٹی میں پڑھنے والے مردوں کے الفاظ کا جائزہ لیا ہے۔ برطانیہ میں تعلقات عامہ کی ماہر اور ریلیٹ (Relate) نامی ادارے کی ترجمان پولا ہال کا کہنا تھا کہ مختلف جوڑوں کے ساتھ کام کرنے کے ان کے تجربے کی روشنی میں وہ حالیہ تحقیق سے اتفاق کرتی ہیں۔’جس چیز سے سب سے زیادہ فرق پڑتا ہے وہ یہ ہے کوئی قدرتی طور پر باتونی ہے یا نہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ مرد ہے یا عورت۔‘
ان کا کہنا تھا ’ یہ کہنا ٹھیک نہیں کہ مرد باتیں نہیں کرتے، شراب خانوں میں مرد خاموشی سے تھوڑا ہی کھڑے رہتے ہیں۔‘ پولا ہال کے مطابق ان کے تجربے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مرد اصل چیزوں کے بارے میں بات نہیں کرتے۔ انسانی تعلقات کی برطانوی ماہر کا مزید کہنا تھا کہ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ بات کرتے ہیں یا نہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ کیا لوگ دوسرے کی بات اچھی طرح سنتے ہیں یا نہیں۔ ’اگر عورتیں زیادہ سننے لگیں تو ہوسکتا ہے کہ کل ہمیں یہ پتہ چلے کہ مرد زیادہ باتیں کرتے ہیں اور اگر مرد سننے لگیں تو شاید انہیں معلوم ہو کہ عورتیں ہر وقت فضول باتیں نہیں کرتیں۔ہم عورتیں جو باتیں کرتی ہیں اس میں بہرحال کچھ قابل توجہ ہوتا ہے۔‘ |
اسی بارے میں مردوں کی پسند، پتلی کمر11 January, 2007 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||