چین: مزید طوفان کی پیشنگوئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کی حکومت نے عوام کو متنبہ کیا ہے کہ ملک میں موسم مزید خراب ہو سکتا ہے۔ ان دنوں چین گزشتہ پچاس برس میں آنے والے بدترین طوفان سے پیدا ہونے والی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں ابھی کچھ دن مزید برفباری اور بارش جاری رہےگی۔ طوفان اور برفباری کے سبب تقریبا دس کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ تقریبا سات ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ ملک کے مرکزی اور جنوبی علاقوں میں گزشتہ تین ہفتوں سے برف باری ہو رہی ہے۔ حکام نے آگاہ کیا ہے کہ فصل خراب ہونے کے سبب کھانے کی اشیاء کی قلت ہو سکتی ہے۔ لاکھوں لوگ بغیر بجلی اور پانی کے زندگی گزار رہے ہیں۔ حکومت نے کوئلے کی پیداوار میں اضافے اور قیمتوں پر ایمرجنسی پابندی عائد کر نے کا حکم دیا ہے۔ سرکاری کے ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت نے امدادی کارروائیوں میں مصروف فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے اور مزید تین لاکھ فوجی اور دس لاکھ سکیورٹی اہلکار طوفان زدہ علاقوں میں بھیج دیے ہیں۔
ڈیلی چائنا اخبار کے مطابق وزیر اعظم وین جیاباؤ نے کابینہ کی میٹنگ میں کہا ہے’ مشکل گھڑی ابھی گزری نہیں ہے۔ حالات ابھی بھی تشویشناک ہوئے ہیں۔‘ حکام کا کہنا ہے کہ امدادی طبی ٹیمیں دو لاکھ بیمار اور زخمی مریضوں کا علاج کر چکی ہیں جبکہ سردی کے سبب ساٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ لیکن چین میں بی بی سی کے نامہ نگار شرؤنگ ژین کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ ان کے مطابق حکومت عوام کو یقین دلانے کی کوشش کر رہی ہے کہ حالات قابو میں ہیں۔ ادھرگزشتہ جوبیس گھنٹوں میں بڑی تعداد میں مسافر اپنے گھروں کو پہنچنے میں ناکام رہے اور بڑی تعداد میں لوگ ریلوے سٹیشنوں پر پھنسے رہے۔ گؤوان گوہو میں لوگوں کو صفر سے نیچے درجۂ حرارت کے باوجود شدید بارش میں کھلے آسمان کے نیچے پوری رات گزرنی پڑی۔ حکومت کی جانب سے متاثرین کو پناہگاہیں فراہم کی گئی ہیں لیکن وہ ہزاروں کی تعداد میں متاثر ہونے والوں کے لیے ناکافی ہیں۔ سٹیشن میں پھنسے ہوئے بیشتر مسافر غریب مزدور ہیں جو اگلے مہینے قمری کیلنڈر کے مطابق نئے سال کا جشن منانے اپنے گھر جا رہے ہیں۔ صدر ہو جنتاؤ نے کوئلے کی کھدانوں کا دورہ کیا ہے جب وزیر اعظم وین جیاباؤ نے جنوبی علاقے میں پھنسے ہوئے مسافروں سے ملاقات کی ہے، تاہم تجزیہ کار حالات سے نمٹنے کے لیے حکومت کے ناکافی اقدامات پر تنقید کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں چین میں پانی کی قلت01 June, 2006 | آس پاس امریکہ میں ’میڈ اِن چائنا‘ کا سیلاب29 June, 2006 | آس پاس چین: خوشحالی کی بہت بڑی قیمت 20 September, 2007 | آس پاس امریکہ برفانی طوفان کی زد میں02 December, 2006 | آس پاس امریکی طوفان: لاپتہ کی تلاش جاری02 January, 2007 | آس پاس امریکہ: برفانی طوفان، گیارہ ہلاک24 December, 2007 | آس پاس امریکہ: برفانی طوفان، 22 ہلاک25 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||