BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چین: مزید طوفان کی پیشنگوئی
چین میں برفانی طوفان
ریلوے اور شاہراہیں برف کی وجہ سے بند ہیں۔
چین کی حکومت نے عوام کو متنبہ کیا ہے کہ ملک میں موسم مزید خراب ہو سکتا ہے۔ ان دنوں چین گزشتہ پچاس برس میں آنے والے بدترین طوفان سے پیدا ہونے والی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں ابھی کچھ دن مزید برفباری اور بارش جاری رہےگی۔ طوفان اور برفباری کے سبب تقریبا دس کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ تقریبا سات ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

ملک کے مرکزی اور جنوبی علاقوں میں گزشتہ تین ہفتوں سے برف باری ہو رہی ہے۔ حکام نے آگاہ کیا ہے کہ فصل خراب ہونے کے سبب کھانے کی اشیاء کی قلت ہو سکتی ہے۔

لاکھوں لوگ بغیر بجلی اور پانی کے زندگی گزار رہے ہیں۔ حکومت نے کوئلے کی پیداوار میں اضافے اور قیمتوں پر ایمرجنسی پابندی عائد کر نے کا حکم دیا ہے۔

سرکاری کے ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت نے امدادی کارروائیوں میں مصروف فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے اور مزید تین لاکھ فوجی اور دس لاکھ سکیورٹی اہلکار طوفان زدہ علاقوں میں بھیج دیے ہیں۔

طوفان کے سبب تفریبا 10 کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ تقریبا سات بلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے

ڈیلی چائنا اخبار کے مطابق وزیر اعظم وین جیاباؤ نے کابینہ کی میٹنگ میں کہا ہے’ مشکل گھڑی ابھی گزری نہیں ہے۔ حالات ابھی بھی تشویشناک ہوئے ہیں۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ امدادی طبی ٹیمیں دو لاکھ بیمار اور زخمی مریضوں کا علاج کر چکی ہیں جبکہ سردی کے سبب ساٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

لیکن چین میں بی بی سی کے نامہ نگار شرؤنگ ژین کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ ان کے مطابق حکومت عوام کو یقین دلانے کی کوشش کر رہی ہے کہ حالات قابو میں ہیں۔

ادھرگزشتہ جوبیس گھنٹوں میں بڑی تعداد میں مسافر اپنے گھروں کو پہنچنے میں ناکام رہے اور بڑی تعداد میں لوگ ریلوے سٹیشنوں پر پھنسے رہے۔ گؤوان گوہو میں لوگوں کو صفر سے نیچے درجۂ حرارت کے باوجود شدید بارش میں کھلے آسمان کے نیچے پوری رات گزرنی پڑی۔

حکومت کی جانب سے متاثرین کو پناہگاہیں فراہم کی گئی ہیں لیکن وہ ہزاروں کی تعداد میں متاثر ہونے والوں کے لیے ناکافی ہیں۔

سٹیشن میں پھنسے ہوئے بیشتر مسافر غریب مزدور ہیں جو اگلے مہینے قمری کیلنڈر کے مطابق نئے سال کا جشن منانے اپنے گھر جا رہے ہیں۔

صدر ہو جنتاؤ نے کوئلے کی کھدانوں کا دورہ کیا ہے جب وزیر اعظم وین جیاباؤ نے جنوبی علاقے میں پھنسے ہوئے مسافروں سے ملاقات کی ہے، تاہم تجزیہ کار حالات سے نمٹنے کے لیے حکومت کے ناکافی اقدامات پر تنقید کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
چین میں پانی کی قلت
01 June, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد