BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 June, 2006, 22:04 GMT 03:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ میں ’میڈ اِن چائنا‘ کا سیلاب

اس سال چین امریکہ کو اس کی تمام درآمدات کا چودہ فیصد فراہم کر چکا ہے
آپ کے اردگرد اگر جمہوريہ چين ميں بنی ہوئی مصنوعات نے گھيرا تنگ کيا ہوا ہے تو آپ اکيلے نہيں، دنيا کے سب سے امير ملک امريکہ کے شہری بھی آپ کے ساتھ ہيں۔

پاکستان ميں جہاں ٹھيلو‎ں اور اليکٹرانکس مارکيٹوں ميں موجود بيشتر اشياء چينی ہوتی ہيں اسی طرح امريکہ کے چھوٹی بڑی دکانوں پر موجود اشياء کی کثير تعداد پر ’ميڈ ان چائنا‘ ہی لکھا ہوا ہے۔

ایک تازہ سروے کے مطابق حب وطن رکھنے والے بائیس فیصد امریکیوں کا کہنا تھا کہ وہ صرف ’میڈ ان یو ایس اے‘ والی مصنوعات استعمال کرتے ہیں لیکن اب تو یہاں ’میڈ ان یو ایس اے’ دھندلا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

اگر آپ نے اپنا فرنیچر ’میڈ ان یو ایس اے‘ خرید کر ہی لیا تو کیا ہوا اس کے لۓ استعمال ہونے والا فوم ’میڈ ان چائنا‘ ہوگا۔ اگر آپ نے جاپان کی گھڑی تلاش کر ہی لی تو اس کا باکس یا یہاں تک کہ پٹہ چین میں بنا ہوگا۔

سوئی میں دھاگہ ڈالنے والی مشین ہو یا کمپیوٹر، اوڑھنے کے لیئے کمبل یا پہننے کے لیئے کپڑے، سننے کے لیۓ ریڈیو یا دیکھنے کیلۓ ٹیلیویژن، آپ کو بس ایک ہی نام لکھا ملے گا ’میڈ ان چائنا‘۔

اوڑھنے کے لیئے کمبل یا پہننے کے لیئے کپڑے یا سننے کے لیۓ ریڈیو آپ کو بس ایک ہی نام لکھا ملے گا ’میڈ ان چائنا‘۔

اس سے بھی کچھ آگے بڑھیں تو چین اب امریکہ کو سویلین جہازوں کے پرزے، انجن اور کچھ جوہری سامان بھی فروخت کر رہا ہے۔ دیکھا جائے تو چین کینیڈا کے بعد امریکہ کو اشیاء فروخت کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے جبکہ امریکی مال کے خریداروں کی فہرست میں اس کا نام کینیڈا، میکسیکو اور جاپان کے بعد چوتھے نمبر پر آتا ہے۔

امریکہ کے ساتھ تجارت کرنے والے پندرہ بڑے ممالک میں بھارت اور پاکستان کا نام شامل نہیں۔

گزشتہ سال امریکہ کو چین کے ساتھہ تجارت میں قریباً دو کھرب ڈالر کا خسارہ ہوا یعنی چین نے امریکہ سے جتنے داموں کی اشیاء خرید کیں اس سے دو کھرب مالیت کا زیادہ مال بیچا۔

اِس سال صرف اپریل کے اندر امریکہ کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ پندرہ اعشاریہ چھ ارب ڈالر سے بڑھ کر سترہ ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اسی ایک ماہ میں چین نے اکیس اعشاریہ چار ارب ڈالر کی مصنوعات امریکہ کو فروخت کیں اور صرف چار اعشاریہ تین ارب ڈالر کا مال خریدا۔

اس سال چین امریکہ کو اس کی تمام درآمدات کا چودہ فیصد فراہم کر چکا ہے۔
امریکی ٹیکسٹائل کمپنیوں کی ایک نمائندہ تنظیم امریکن ٹریڈ ایکشن کولیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آگی تانتیلو کا کہنا ہے کہ چین، بھارت اور پاکستان سے ٹیکسٹائل مصنوعات کی بہت زیادہ درآمد کی وجہ سے مقامی صنعت مسائل سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا ’گزشتہ چھ سال میں ٹیکسٹائل شعبے سے پانچ لاکھ سے زائد آسامیاں ختم ہو چکی ہیں‘۔

اب امریکہ کی زیادہ تر کمپنیاں چین میں سرمایہ کاری کرنے لگی ہیں

اس صورتحال پر بات کرتے ہوئے نیشنل ایسوسی ایشن آف مینوفیکچررز کے صدر جان اینگلر نے کہا کہ جہاں چینی مصنوعات کی بھرمار ایک باعث فکر بات ہے وہاں ایک اچھی بات بھی۔ وہ یہ کہ اب امریکہ کی زیادہ تر کمپنیاں چین میں سرمایہ کاری کرنے لگی ہیں۔ ’جو کمپنیاں یہاں خسارے میں جا رہی ہیں ان کو چین میں مالی فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔‘

کیمرہ اور ڈیجیٹل فوٹوگرافی کے ایک بڑے نام ’رٹز کیمیرہ‘ کے ایک سیلزمین سے پوچھا گیا کہ نائکون جیسے بڑے برانڈ کیمرہ کے لینسز ’میڈ ان جاپان‘ کیوں نہیں تو اس نے کہا کہ جاپانی لینسز مہنگے ہونے کی وجہ سے اب وہ چین اور دیگر ممالک میں بن رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’ کیمرہ کے اہم اندرونی اجزاء جاپان میں جبکہ بیرونی زیادہ تر چیزیں چین میں بن رہی ہیں۔‘

ٹیکسٹائل مصنوعات فروخت کرنے والی ایک بڑی کمپنی ’جے سی پینی‘ کے مینیجر کامران ابڑو نے بتایا کہ ان کی دوکان کے اندر اسی فیصد مصنوعات چین سے ہی درآمد شدہ ہیں۔ انہوں نے اِن اشیاء کو سستی کہنے سے گریز کرتے ہوۓ کہا ’چین اپنے صارفین کو ایک قدر فراہم کر رہا ہے۔‘

کِمی نامی ایک خاتون کا کہنا تھا کہ چینی اشیاء خرید کرنا اس کی مجبوری تھی کیونکہ زیادہ تر دوکانوں پر صرف وہی نظر آرہی ہیں ورنہ وہ جاپان اور امریکہ میں بننے والی مصنوعات کو ترجیح دیتی ہیں۔ ایک اور خاتون سوزان نے چینی مصنوعات کے بارے میں اپنا ایک خراب تجربہ بیان کیا کہ ان کے پاس دو سائیکلیں ہیں۔ ایک جاپان اور دوسری ’میڈ ان چائنا‘۔ جب یکے بعد دیگرے دونوں سائیکلیں خراب ہوگئیں تو انہوں نے یکمشت دونوں کی مرمت کروانا چاہی۔ میکینک نے چند سال پرانی جاپانی سائیکل کی مرمت تو کردی لیکن ایک سالہ چینی سائیکل کی مرمت کرنے سے یہ کہ کر انکار کر دیا کہ اس کے دیگر کمزور پرزے بکھر جائیں گے۔

لیکن سوزان پھر بھی چینی اشیاء خریدنے سے باز نہیں آتیں اور انٹرنیٹ پر ان کی تلاش میں رہتی ہیں۔

مگر ایسے کیوں؟

ان کا جواب تھا کہ ’وہ سستی جو ٹھہریں۔‘

چینقابلِ رشک چین
معاشی ترقی کی شاہراہ پر چین کاتیز تر سفر
امریکی پرچم’چین امریکہ سے اچھا‘
عالمی جائزے میں چین امریکہ سے زیادہ مقبول
چینی کھلونے پاکستان میں مقبول ہیںچین کا سستا مال
چینی مصنوعات پاکستانی مارکیٹ میں چھا گئیں
لڑکے زیادہ لڑکیاں کم
صنفی عدم توازن، انسان کی پیدا کردہ آفت
چینچین: اقتصادی عروج
چینی اشیاء، فائدے میں امریکی عوام
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد