| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
چینی مال سستا بھی اور اچھا بھی
پاکستان کے بازار چین سے آئی ہوئی اشیاء سے بھرے ہوئے ہیں۔ الیکٹرانکس، جوتے، گھریلو آرائش کی چیزیں، ہوزری، عورتوں اور مردوں کے زیر جامے، عورتوں کے لباس کا کپڑا، موٹر سائکلیں، سائکلوں کے پرزے اور اب کاریں بھی چین سے آنے لگی ہیں۔ چین سے سیلاب کی شکل میں آیا ہوا سستا اور نسبتاً معیاری سامان پاکستانی گھریلو صنعت کو تباہ کر رہا ہے اور چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والے کارخانے دھڑا دھڑ بند ہورہے ہیں۔ آج کل لوگ لاہور کی مال رڈ پر رکھی ہوئی چینی کار کو دور دور سے دیکھنے آرہے ہیں جس کی قیمت کہاجارہا ہےکہ صرف ایک لاکھ روپے ہوگی جو پاکستانی کار کے مقابلہ میں تین گنا کم ہے۔ بچوں کا گارمنٹس بنانے والی صنعت کے چیئرمین ادریس تبسم کا کہنا ہے کہ بچوں کے گارمنٹس کا بازاروں میں ستر سے پچہتر فیصد مال چین سے آیا ہوا ہے اور باقی کچھ بنکاک اور ملائشیا سے۔ صرف دس فیصد پاکستان کے کارخانوں سے آرہا ہے۔ ادریس تبسم چین کے مال کے سخت خلاف ہیں لیکن اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اس کی قیمت پاکستانی مال کے مقابلے میں آدھی سے بھی کم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پانچ ارب روپے مالیت کے بچوں کے کپڑے ہر سال خریدے جاتے ہیں اور کراچی، لاہور ، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں چھوٹے چھوٹے کارخانے یہ مانگ پوری کررہے تھی لیکن اب ان کی اکثریت بند ہوگئی ہے۔ ان کے مطابق اب تک چینی مال کی بہتات کے باعث بچوں کی گارمنٹس کے اٹھارہ سو کارخانے بند ہوچکے ہیں۔ اونی ہوزری اور اور گھریلو صنعت سے وابستہ ایک مینوفیکچرر مرزا بشیر کا کہنا ہے کہ وزیر آباد میں کٹلری اور بائسیکل کے سپیئر پارٹس کے کارخانے بند ہورہے ہیں اور چونیاں ، میاں چنوں اور وہاڑی میں میں زرعی آلات کے کارخانوں کا بھی یہی حال ہے۔
لاہور کے تھوک بازار شاہ عالمی کے ایک تاجر رضی بٹ کا کہنا ہے کہ انیس سو نوے تک پاکستانی صنعت کار ملک میں کھلونوں کی مانگ کا پچہتر فیصد خود پورا کیا کرتے تھے اور باقی حصہ غیر ملکی کھلونوں کا تھا۔ اب یہ حال ہے کہ ملک میں فروخت ہونے والے نوے فیصد کھلونے چین سے آرہے ہیں جو بہت سستے ہیں۔ ان کی قیمت عام طور پر پچیس سے پچاس روپے کے درمیان ہے لیکن پانچ روپے کا کھلونا بھی مل جاتا ہے اور زیادہ سے زیادہ اڑھائی ہزار کا بھی۔ پاکستان میں کھلونے بنانے والی تین بڑی کمپنیاں تھیں جن میں سے ایک بند ہوگئی ہے۔ ان میں سے ایک کمپنی، ایورگرین ٹوائے انڈسٹری، کے مالک اقبال احمد کا کہنا ہے کہ ان کی فیکٹری میں کھلونوں کی پیداوار کم ہوکر پہلے کے مقابلہ میں پچیس فیصد رہ گئی ہے۔ پلاسٹک صنعت سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ چین سے کھلونوں کی بڑے پیمانے پر اسمگلنگ ہوتی ہے ، شاہراہ ریشم کے راستے بھی اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے بھی مال آتا ہے۔ اس کے علاوہ جو لوگ باقاعدہ درآمد کرتے ہیں وہ مال کی قیمت کم ظاہر کرکے کم کسٹم ڈیوٹی دیتے ہیں جس میں کسٹم اہلکاروں کی ملی بھگت شامل ہوتی ہے۔ دوسری طرف دکانداروں کا کہنا ہے کہ چین کے کھلونے اس لیے بک رہے ہیں کہ ان کا معیار اچھا ہے اور قیمت کم ہے جبکہ پاکستانی کھلونوں کا معیار ان سے کم ہے اور قیمت زیادہ ہے۔ شاہ عالمی کے ایک تھوک کے تاجر اسماعیل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کھلونے بنانے والے گھٹیا پلاسٹک استعمال کرتے ہیں اور ان کے ڈیزائین پرانے ہوتے ہیں جبکہ چینی جب بھی نیا مال بھیجتے ہیں نئے ڈیزائن کا ہوتا ہے اور ان کا رنگ روپ بھی اچھا ہوتا ہے۔ کاسمیٹکس کی چیزوں میں حیرت انگیز کمی ہوئی ہے اور چین سے آئی ہوئی ایک لپ اسٹک صرف تین روپوں میں دستیاب ہے اور سو روپوں میں تین درجن لپ اسٹک کا پیکٹ مل جاتا ہے اور یہی حال میک اپ کے دوسرے سامان کا ہے۔ شاہ عالم مارکیٹ میں جگہ جگہ چین سے آیا ہوا ہے گھریلو آرائشی سامان فروخت ہورہا ہے اور گاہکوں کا کہنا ہے کہ مصنوعی پھول اور پودے اور آرائشی وال کلاک ، فوٹو فریم اور ایسی دوسری چیزیں پہلے کبھی اتنی سستی نہیں تھیں جتنی چین سے آئی ہوئی چیزوں کی وجہ سے ہوگئی ہیں اور اب متوسط طبقہ کے لوگ بھی یہ سامان خرید سکتے ہیں۔ چین سے آئے ہوئے سستے مال سے الیکٹرانک اشیاء کی قیمتوں میں بھی بہت کمی آئی ہے۔ ایک چینی وی سی ڈی پلیئر ہال روڈ میں دو سے تین ہزار کا مل جاتا ہے جبکہ ایسے ہی جاپانی وی سی ڈی کی قیمت آٹھ ہزار سے کم نہیں۔ چینی واک مین تو ڈیڑھ سو روپوں میں مل رہا ہے۔
چینی موٹر سائیکل نے جاپانی کمپنیوں کو بھی اپنی موٹر سائیکل سستی کرنے پر مجبور کردیا۔ میکلوڈ روڈ کے ایک موٹر سائکل ڈیلر کے مطابق چینی موٹر سائیکل بتیس ہزار روپے کی ہے جبکہ پاکستان میں بنی ہوئی جاپانی برانڈ کی موٹر سائیکل کی قیمت اب بھی ساٹھ ہزار روپے ہے۔ یہی حال جوتوں کا بھی ہے۔ جو پاکستانی جوتا آٹھ سو روپےکا تھا ویسا ہی چینی جوتا صرف تین سو روپے کا مل رہا ہے۔ شو مارکیٹ لاہور کے ایک تاجر یونس نے بتایا کہ بڑی کمپنیاں ، جن کے برانڈ نام ملک میں بہت مشہور ہیں، چین سے اپنا مال بنوا رہی ہیں اور مقامی کاریگر بے روزگار ہورہا ہے۔ پاکستان گارمنٹس ایسیوسی ایشن کے صدر ادریس تبسم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مصنوعات بنانے والے چین کا مقابلہ نہیں کرسکتے کیونکہ یہاں چین کی نسبت بجلی مہنگی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ کسٹم ڈیوٹی کی شرح جو تیس سے پچاس فیصد ہے مقامی صنعت کو تباہی سے نہیں بچا سکتی اور مقامی صنعت چین کے مال کا صرف اسی وقت مقابلہ کر سکتی ہے جب چین سے درآمدی مال پر سو فیصد یا اس سے زیادہ کسٹم ڈیوٹی ہو اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے ہونے والی اسمگلنگ کو روک دیا جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |