BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 April, 2004, 08:56 GMT 13:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چین میں لڑکیوں کا کال
News image
اے جُن کو اب بیٹے کی تمنا ہے
چین کو آبادی کے ایسے بحران کا سامنا ہے جس میں کنوارے مردوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کہتے ہے کہ اگر یہ ہی رجحان جاری رہا تو دو ہزار بیس میں غیرشادی شدہ مردوں کی تعداد چار کروڑ تک جا پہنچے گی۔

چینی عورتوں کی تعداد میں کمی کے دو اسباب بیان کیے جا رہے ہیں۔ ایک تو شرح پیدائش سے متعلق سخت پالیسی اور دوئم بیٹے کی خواہش۔

چین میں ہائنان کا جزیرہ اس بحران کا سخت شکار ہے۔ اے جُن کی عمر بائیس سال ہے اور وہ ایک بیٹی کی ماں ہے۔ تاہم وہ اس وقت حاملہ ہے اور اس پر بیٹا پیدا کرنے کے لئے شدید دباؤ ہے۔

جُن کا کہنا ہے: ’میرا خاوند نرینہ اولاد چاہتا ہے۔ اگر دوسری بار بھی میرے یہاں بیٹی نے جنم لیا تو میں تیسرا بچہ پیدا کروں گی۔‘

چین میں تیسرے بچے کی پیدائش پر پابندی ہے اور ایسا کرنے والوں کو جرمانے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مگر اولاد نرینہ کی خواہش کو سرکاری پابندیوں سے نہیں دبایا جا سکتا۔

اس جزیرے پر اس کا گاؤں پِنگ لِنگ ہے جہاں غربت کا دور دورہ ہے۔ ایسے میں بیٹوں ہی کو بوڑھے والدین کا سہارا سمجھا جاتا ہے۔

چین نے آبادی میں اضافہ پر قابو پانے کے لئے انیس سو اسّی میں قانوناً دوسرے بچے کی پیدائش کو ممنوع قرار دیا تھا تاہم دیہات میں اس پر عملدرآمد میں مشکل پیش آنے کے بعد سن چوراسی میں یہ پالیسی بدل دی گئی۔

News image
شادی کے لئے لڑکی نہیں ملتی: زیاؤ مِنگ

بیجنگ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ایک ماہر ’زائے زینوو‘ کہتے ہیں کہ دیہات کے لئے بنائی گئی پالیسی ’ڈیڑھ بچے کی پالیسی‘ کہلاتی ہے جس کا مطلب ہے کہ اگر ایک جوڑے کے ہاں پہلی اولاد لڑکا ہو تو انہیں دوسرے بچے کی اجازت نہیں۔ البتہ لڑکی ہونے کی صورت میں وہ دوسرا بچہ پیدا کر سکتے ہیں۔

اس پالیسی کی زد میں ہائنان جزیرہ سب سے زیادہ آیا ہے۔ یہاں اوسطاً سو لڑکیوں کے مقابلے میں ایک سو پینتس لڑکے پیدا ہوتے ہیں۔

زائے کہتے ہیں کہ سن اسّی تک یہ مسئلہ نہیں تھا۔ لیکن الٹرا ساؤنڈ میشنوں کی آمد کے بعد ہر جوڑے کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ شکم مادر ہی میں بچے کی جنس کا پتا چلا لے۔

لڑکی کی صورت میں بعض افراد حمل گروا دیتے ہیں۔ حالانکہ ایسا کرنا قانوناً ممنوع ہے۔

الٹرا ساؤنڈ ٹیکنیشن چین ڈی کہتے ہیں کہ اگرچہ بیٹے یا بیٹی کے بارے میں والدین کو آگاہ کرنے پر پابندی ہے تاہم کچھ لوگ رشوت کے لالچ میں قانون شکنی پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔

زچہ بچہ کی ایک ماہر کہتی ہیں کہ ان کے اسپتال میں ستّر فی صد نرینہ بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اور اگر کسی کا بیٹا بیمار پڑ جائے تو اس کے علاج کے لئے والدین سب کچھ داؤ پر لگا دیتے ہیں۔

پِنگ لِنگ میں سرکاری پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب وہاں مردوں کی بڑی تعداد غیرشادی شدہ ہے۔ پچیس سالہ زیاؤ مِنگ کہتے ہیں: ’مجھے شادی کے لئے لڑکی نہیں ملتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں پیار سے واقف نہیں اور نہ ہی میں صحیح طرح سے بول سکتا ہوں۔‘

ایک بوڑھے چینی کا کہنا تھا کہ اس کے چار بیٹے ہیں جن میں سے صرف ایک شادی شدہ ہے۔

اس گاؤں میں پانی اور خوراک کی کمی جیسی قدرتی آفات تو پہلے ہی موجود ہیں، اب لگتا ہے کہ صنفی عدم توازن بھی یہاں کے لوگوں کو لپیٹ میں لے لے گا۔ مگر یہ آفت انسان کی اپنی پیدا کردہ ہوگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد