چین میں نِجی جائیداد کا پہلا بِل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کی پارلیمان نے انیس سو انچاس کے چینی انقلاب کے بعد اپنے آئین میں انتہائی اہم ترمیم کے ذریعے ملک میں پہلی بار نجی مِلکیت کے تحفظ سے متعلق ایک قانون کی منظوری دی ہے۔ مذکورہ ترمیم کے ذریعے چین میں کمیونزم کے نظریے کی اُس بنیادی شِق کو ترک کر دیا گیا ہے کہ پیداوار کے ذرائع عوام کی ملکیت ہوں گے۔ ایک وقت تھا کہ چین میں نجی جائیداد رکھنے والوں کو شخص کو انتہائی برا سمجھا جاتا تھا۔ نظریاتی بحث ایک طرف، اس تبدیلی سے چین کا قانون زمینی حقائق سے قریب تر ہو جائے گا کیونکہ چین کا نجی شعبہ ملک کی سالانہ آمدنی کے دو تہائی کا ذمہ دار ہے۔ قانون میں تبدیلی کا مقصد معاشی ترقی کے عمل کو جاری رکھنے کے علاوہ اپنے آپ کو ملک میں بڑھتی ہوئی مِڈل کلاس کی نمائندے کے طور پر پیش کرنا ہے۔ پارلیمان کے اجلاس کے دوران کرپشن اور بڑھتے ہوئے جرائم کے معاملات پر ڈالے جانے والے ووٹوں نے سب کو حیران کر دیا۔ ان موضوعات پر ووٹنگ کا رجحان مختلف تجزیوں کی عکاسی کرتا ہے جن میں بتایاگیا تھا کہ چینی کرپشن کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||