| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین و امریکہ میں ’زیر جاموں کی جنگ‘
عام طور پر بات پھیلتی ہے اور پھیلتے پھیلتے تنازعہ بن جاتی ہے۔ ہونے کو تو یہ بھی ایک بات ہی تھی، چین و امریکہ کے درمیان تجارت سے متعلق ایک پیشرفت، مگر یہ بات پھیلنے کی بجائے سکڑی اور سکڑتے سکڑتے زیر جامعوں بلکہ، توبہ توبہ، خواتین کے زیر جاموں تک جاپہنچی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان زیر جاموں کی جنگ تک پہنچ گئی۔ ہوا یہ ہے کہ امریکہ نے خواتین کے زیر جاموں اور بُنے ہوئے ملبوسات سمیت کپڑے کی کئی چینی مصنوعات کی درآمد محدود کرنے یا دوسرے لفظوں میں اس کا کوٹہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور چین نے اس فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ چین کی چیخ تو نکل گئی ہے مگر یہ چیخ سنی نہیں پڑھی جاسکتی ہے اور پڑھی بھی چین کے سرکاری اخبار ’دا چائنہ ڈیلی‘ میں جاسکتی ہے۔ اخبارنے بش انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ ملبوسات کی امریکی صنعت کا قبلہ درست کرنے کے گھٹیا اور چھچھورے سیاسی ہتھکنڈے آزما کر دراصل اگلے برس متوقع امریکہ کے صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونا چاہتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ کے محکمۂ تجارت نے اعلان کیا ہے کہ چین میں تیار ہونے والے ملبوسات جن میں خواتین کے زیر جامے اور دیگر ملبوسات کی درآمد سات اعشاریہ پانچ فیصد سالانہ تک مقرر کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔
چین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی یہ شکایت بین الاقوامی تجارتی تنظیم ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) میں پیش کرے گا۔ چین کے سرکاری اخبار کا کہنا ہے کہ امریکہ کا یہ فیصلہ امریکی صارفین کو بہت مہنگا پڑے گا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان خواتین کے زیر جاموں سمیت بُنے ہوئے ملبوسات کی درآمد و برآمد کا یہ تنازعہ دونوں ممالک کی کپڑے کی صنعت کے لیے تو جزوی طور پر خطرہ بنے گا لیکن اصل میں تو یہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی خسارے کی بڑی جنگ کا حصہ ہے۔ امریکہ میں کپڑے کی صنعت سے متعلق حکام کا کہنا ہے کہ چینی مصنوعات کی درآمد سے گزشتہ دو برس میں کم از کم تین لاکھ افراد کو اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو کر بے روزگاری کا شکار ہونا پڑا ہے۔ امریکہ نے یہ فیصلہ گزشتہ چودہ ماہ میں چین میں تیار شدہ کپڑے کی مصنوعات، جن میں خواتین کے زیر جامے اور ہاتھ سے بُنے ہوئے ملبوسات شامل ہیں، میں زبردست اضافے کے بعد کیا ہے۔ دونوں ممالک مختلف سیاسی اور سماجی امور اور عالمی تنازعات پر پہلے ہی شدید اختلافات کا شکار رہے ہیں۔ اور ابھی تو بات زیر جاموں بلکہ خواتین کے زیر جاموں تک آئی ہے۔ بات یہیں ٹھہر جائے تو اچھا ہے ورنہ اس سے آگے، بلکہ اس کے بعد، بلکہ زیر جاموں کے بعد تو شاید شائستگی کا دامن بھی چھوٹ جانے کا خدشہ ہے۔۔۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||