چین میں ’انٹرنیٹ‘ باغی گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین میں پچھلے سال اکتوبر میں حراست میں لئے جانے والے ایک منحرف پر انٹرنیٹ کے ذریعے بغاوت کی کوشش کے الزامات عائد کردئے گئے ہیں اور ان کی گرفتاری کی قانونی جواز پیش کر دیا گیاہے۔ چین کی سرکاری خبر رساں ایجینسی ژِن وا کے مطابق ڈوو ڈاؤبِن نے انٹرنیٹ پر ایسےاٹھائیس مضامین تحریرکئے تھے جن کا مقصد چین کی سوشلسٹ حکومت کو گرانا تھا۔ مسٹر ڈاؤبِن نے ایک اور ایسی منحرف لوئی ڈی کی حمایت کی تھی جن پر بھی انٹرنیٹ کے ذریعے لوگوں کو بغاوت پر اکسانے کے الزامات تھے اور جنہیں بعد میں رہا کر دیا گیا تھا۔ حالیہ مہینوں میں چین نے انٹرنیٹ پر رسائی اور اس کے استعمال پر کنٹرول سخت کر دیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجینسی نے ایک پولیس اہلکار سے منسوب ایک بیان میں بتایا ہے کہ مسٹر ڈاؤبِن نے حکومت کے کام پر نکتہ چینی کے اپنے قانونی حقوق سے تجاوز کرتے ہوئے ریاست کے خلاف اشتعال پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ مسٹر ڈاؤبِن کی گرفتاری کے بارے میں خاصہ ابہام پایا جاتا ہے کیونکہ نیویارک کے ایک انسانی حقوق کے گروپ کے مطابق سرکاری وکیلوں نے پولیس کو یہ بتایا تھا کہ ان کے پاس مسٹر ڈاؤبِن کے خلاف ضروری ثبوت موجود نہیں۔ نومبر کے مہینے میں اسی طرح کی ایک اور انٹرنیٹ باغی لووئی ڈی کو ثبوت موجود نہ ہونے کی وجہ سے رہا کردیا گیا تھا۔ انہوں نے انٹرنیٹ پر سیاسی مضامین شائع کئے تھے اور انہیں انٹرنیٹ پر سٹیل کی چوہیا کے طور پر جانا جاتا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||