| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاکھوں چینیوں کی دستخطی مہم
چین میں دس لاکھ سے زیادہ افراد نے ایک آن لائن عرضداشت یا برقیاتی محضرنامہ پر دستخط کیے ہیں جس میں جاپان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ دوسری جنگ عظیم کے دوران چین میں چھوڑے گئے کیمیائی ہتھیاروں کے متاثرین کو معاوضہ ادا کرے۔ یہ دستخطی مہم سات چینی ویب سائٹس نے شروع کی تھی اور اس کے بارے میں خیال ہے کہ یہ ملک میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی مہم ہے۔ مہم چلانے والوں نے اس عرضداشت کو جمعرات کے روز جاپانی سفارتخانے کے سامنے پیش کیا۔ اس دن ’مُکڈن انسیڈنٹ‘ کی بہترویں برسی ہے۔ اسی واقعہ کو بنیاد بناکر جاپان شمال مشرقی چین پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس عرضداشت میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ جاپان اس واقعہ پر چینیوں سے معافی مانگے، بقیہ کیمیائی ہتھیاروں کی صفائی کرے اور متاثرین کو معاوضہ ادا کرے۔ دستخطی مہم کے ایک کارکن فینگ زینہا نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں اتنی بڑی تعداد میں دستخطوں سے خوش کن حیرت ہوئی ہے۔ زمانۂ جنگ کے معاملات چین اور جاپان کی حکومتوں کے مابین ہمیشہ وجہ نزاع رہے ہیں۔ اس سال اگست میں چین کے ایک شہر میں تعمیر کے لئے کھدائی کے دوران ایک سلینڈر نکلا جس میں سے مسٹرڈ گیس خارج ہونے کی وجہ سے ایک شخص ہلاک اور چالیس بیمار ہوگئے تھے۔ یہ انتہائی زہریلی گیس ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے دوران پسپا ہوتی جاپانی فوج سات لاکھ کے لگ بھگ کیمیائی ہتھیار پیچھے چھوڑ گئی تھی۔ متاثرین کے وکلاء کا کہنا ہے کہ سن پنتالیس سے اب تک ان ہتھیاروں سے دو ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جاپان اس واقعہ پر چین سے معافی مانگ چکا ہے تاہم اس نے معاوضے کی ادائیگی سے اس بنیاد پر انکار کر دیا ہے کہ سن بہتّر میں دونوں ملکوں کے مابین سفارتی تعلقات بحال ہوجانے کے بعد یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |