BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 January, 2008, 00:23 GMT 05:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’غزہ والوں کی جبری واپسی نہیں‘
دیوار
ہزاروں کی تعداد میں لوگ سرحد توڑ کر مصر میں داخل ہوئے ہیں

مصر کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ غزہ سے آنے والے فلسطینیوں کی واپسی کے لیے طاقت کا استعمال نہیں کرے گی۔ بدھ کو غزہ میں نقاب پوش فلسطینییوں نے ایک سرحدی دیوار کو بم کے دھماکوں سے اڑا دیا تھا جس کے بعد ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی مصر میں داخل ہوئے ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے مصر کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو غزہ کے لوگوں کو درپیش مشکلات کا پوری طرح احساس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مصر کو احساس ہے کہ یہ لوگوں صرف کھانے پینے کی اشیاء اور دوائیں خریدنے کے لئے آئے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ غزہ والوں کو واپس دھکیلنے کے لئے طاقت کا استعمال نہیں کیا جائے گا اور ان کی واپسی کے بعد سرحد کو دوبارہ بند کر دیا جائے گا۔

دریں اثناء غزہ میں حماس قیادت کا کہنا ہے کہ وہ مصری حکومت کے ساتھ طویل عرصے کے لیے ایک سمجھوتہ چاہتی ہے تاکہ فلسطینی علاقوں سے لوگ سامان خریدنے کے لیے مصر آجاسکیں۔

مصر کی حکومت کو غزہ کے ساتھ سرحد بند رکھنے پر تنقید کا سامنا ہے۔ سرحد بند کرنے کی وجہ سے بعض لوگ اب حکومت پر تنقید کرتے ہیں کہ مصر کی حکومت فلسطینیوں پر گرفت سخت کرنے کے لئے اسرائیلی حکومت کی مدد کر رہی ہے۔ لیکن مصر کی حکومت کا موقف ہے کہ وہ سرحدی دیوار ٹوٹنے کے بعد صرف غریب فلسطینیوں کو ہی خوش آمدید کہہ سکتی ہے، حماس کے ان عسکریت پسندوں کو نہیں جن کے پاس اس وقت غزہ کا کنٹرول ہے۔

سکیورٹی کونسل: اجلاس جمعرات کو
 دریں اثناء غزہ کے بحران کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا ایک اجلاس جمعرات کو ہونے والا ہے تاکہ’غزہ اور جنوبی اسرائیل میں فوری طور پر تشدد کے خاتمے‘ کے لیے ایک بیان پر اتفاق کیا جاسکے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ مصر میں غزہ کے فلسطینیوں کی ’حالت زار‘ پر خاصی ہمدردی پائی جاتی ہے اور مصر صرف یہ امید ہی کر سکتا ہے کہ اگر اسرائیل سرحد کی پابندی باضابطہ طور پر چاہتا ہے تو اُسے جلد ہی علاقے کی ناکہ بندی ختم کرنی پڑے گی۔

ادھر اسرائیل میں وزیر اعظم ایہود اولمرت نے ایک مرتبہ پھر دہرایا ہے کہ اگر اسرائیل پر غزہ سے راکٹ حملے بند نہیں ہوئے تو غزہ کے فلسطینیوں کو درپیش مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ علاقے میں ایک انسانی بحران پیدا نہیں ہونے دیا جائے گا۔

لیکن غزہ میں موجود اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں انسانی بحران پہلے ہی پیدا ہوچکا ہے۔ ایہود اولمرت کی تقریر میں مصر کے ساتھ غزہ کی سرحدی دیوار کے ٹوٹنے اور ہزاروں فلسطینیوں کے مصر میں داخل ہونے کا ذکر بالکل نہ تھا۔

دریں اثناء غزہ کے بحران کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا ایک اجلاس جمعرات کو ہونے والا ہے تاکہ’غزہ اور جنوبی اسرائیل میں فوری طور پر تشدد کے خاتمے‘ کے لیے ایک بیان پر اتفاق کیا جاسکے۔

گزشتہ چند دنوں سے غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی کی وجہ سےغزہ کے باشندے کھانے پینے کا سامان، ایندھن اور دیگر ساز وسامان خریدنے کے لیے مصر کا رخ کر رہے ہیں کیونکہ ناکہ بندی کے بعد ان چیزوں کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔

اسرائیل نے غزہ سے کیے جانے والے راکٹ حملے روکنے کے لیے ناکہ بندی کر رکھی ہے اور مقامی بجلی گھر کو ایندھن کی سپلائی بھی معطل کردی ہے جس سے بہت سے علاقے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

بدھ کی صبح عسکریت پسندوں نے رفاہ کی کراسنگ کے قریب کئی مقامات پر دیوار کو بارود سے اڑا دیا۔ بی بی سی کے نامہ نگار ایئن پینل اس کراسنگ کے قریب مصری علاقے میں موجود ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں غذائی اشیاء، پیٹرول اور سگریٹ خرید رہے ہیں۔

سرحد پار کرنے والوں میں شامل ایک شخص ابو طحہ نے کہا کہ ’ہمیں کھانے پینے کا سامان چاہیے، ہم چاول، چینی، دودھ، آٹا اور پنیر خریدنا چاہتے ہیں۔‘ سن دو ہزار پانچ میں جب اسرائیل نے غزہ سے اپنی فوج واپس بلا لی تھی، اس وقت بھی حماس کے عسکریت پسندوں نے سرحدی دیوار کئی جگہ سے توڑ دی تھی۔

الاقصیٰ’یہ بربریت ہے‘
مسجد الاقصیٰ: کھدائی پر اسرائیلی ناراضگی
صدر بشبش کے سخت الفاظ
یہودی بستیوں کی مزید تعمیر نہ کی جائے
امریکہ اسرائیل ڈیل
تیس ارب ڈالر کی دفاعی امداد اور خطے میں امن
نو آبادیاں جاری
مشرقی یروشلم میں تعمیر جاری رہے گی
فائلامیدیں اور اندیشے
کمیپ ڈیوڈ مشرق وسطی امن کانفرنس
اسی بارے میں
غزہ تاریکی میں ڈوب گیا
20 January, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد