کابل حملہ: عینی شاہد کا بیان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان نے کابل کے لگژری ہوٹل پر خود کش حملہ کیا ہے جس میں ناروے کے ایک صحافی سمیت سات لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ ہوٹل میں کیا ہوا تھا اس کے بارے میں متضاد بیانات سامنے آرہے ہیں۔ ایک غیر ملکی ڈاکٹر جو دھماکے کے فورا بعد ہوٹل پہنچا تھا اس نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو حملے کے بارے میں بتایا۔ جب ہمیں یہ اطلاع ملی کی ہوٹل میں دھماکہ ہوا ہے تو ڈاکٹروں کی ایک چھوٹی ٹیم کے ساتھ ہم سیرینا ہوٹل پہنچے۔ ہم ہوٹل کا آنگن پار کرکے اوپر پہنچے ۔ وہاں ہم نےمتحدہ عرب امارات کے ایک سفارتکار کو زخمی حالت میں پایا۔ انکے پیٹ کے نیچے گولی لگی تھی۔ وہ بالکل ٹھیک تھے اور پورے ہوش میں تھے۔ جیسے ہی اسپتال لے جانے کے لیے ہم نے ان کو ایمبولینس میں بٹھایا ہمیں فون پر پتہ چلا کہ ہوٹل کے داخلی دروازے کے پاس مزید زخمی پڑے ہیں۔ ہم واپس جانے کے لیے جیسے ہی اپنی گاڑی سے اتر کر آگے بڑھے راستے میں ایک گارڈ مرا پڑا تھا۔کسی نے اس کو وہاں سے اٹھایا نہیں تھا۔ میں نے اس کا معائنہ کیا اور بتایا کہ وہ مر چکا تھا۔ ہمارا اگلا کام ان لوگوں کو بچانا تھا جو زخمی حالات میں ہوٹل کے دروازے پر علاج کے منتظر تھے۔ ایک بار جب یہ پتہ چل گیا ہے ہوٹل کی لابی میں جانا محفوظ ہے اور جب ہوٹل کے حفاظتی دستوں نے یہ یقین دہانی کرادی کہ ہوٹل میں حملہ آور نہيں ہیں تو ہم اندر گئے اور مریضوں کو دیکھنا شروع کیا۔ میں ایک ایسی عورت کا علاج کررہا تھا جو حملے میں بری طرح سے زخمی ہوگئی تھی۔ ہوٹل میں اندھیرا تھا کیونکہ حملہ آوروں نے ہوٹل کی چاروں طرف سے ناکہ بندی کردی تھی۔ چاروں طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ ہوٹل کے آنگن میں جلے ہوئےگوشت کے ٹکڑے پڑے تھے۔ اس سے صاف تھا کہ یہ کسی خود کش حملہ آور کی کاروائی تھی۔
ہمیں بتایا گیا کہ حملہ آوروں میں چار باغی شامل تھے جن میں سے ایک کو ہوٹل لابی میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ دوسرے نے ہوٹل کے آنگن میں خود کو دھماکے سے اڑادیااور تیسرے نے چھت پر جاکر اپنے آپ کو اڑا لیا اور چوتھا بھاگنے میں کامیاب ہوگیا۔ اٹیلینجیس سروسز نے ہمیں بتایا کہ حملہ آور ہوٹل کے داخلی دروازے سے داخل ہوئے اور لوگوں کو مارتے ہوئے ہوٹل کے پيچھے تک گئے۔ ہوٹل کی لابی بہت پرکشش اور خوبصورت تھی ۔ لیکن جب میں وہاں حملے کے بعد گیا تو سنگ مرمر کا فرش خون سے لت پت تھا، شیشے ٹوٹے ہوئے تھے اور فرنیچر پھیلا پڑا تھا۔ ہوٹل کی لابی میں زوردار دھماکے کے ساتھ فائرنگ کی آواز بھی سنی گئی اور اسی دوران لابی میں لاشیں پڑی تھیں۔ میرے خیال سے ہوٹل کو دوبارہ پہلی جیسی حالت میں واپس لانا آسان عمل ہوگا۔ ہم زخمیوں کو ہوٹل سے اسپتال لے گئے لیکن جس خاتون کا علاج میں کررہا تھا وہ اسپتال کے راستے میں انتقال کرگئی۔ میں نے افغانستان میں ایسے حالات بہت دیکھے ہیں۔ |
اسی بارے میں کابل: فوجیوں کی بس میں دھماکہ29 September, 2007 | آس پاس کابل بس دھماکہ، متعدد فوجی ہلاک29 September, 2007 | آس پاس افغان دھماکہ، کئی ہلاکتوں کا خدشہ06 November, 2007 | آس پاس افغان خود کش حملہ، 40 ہلاک07 November, 2007 | آس پاس افغانستان: خود کش حملہ، آٹھ ہلاک24 November, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||