افغان دھماکہ، کئی ہلاکتوں کا خدشہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی افغانستان میں ایک دھماکہ ہوا ہے جس میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق کئی افراد ہلاک اوردرجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ ہلاک ہونے والوں میں کئی سکول جانے والے بچے بھی شامل ہیں جو ان سیاست دانوں کے استقبال کے لیے آئے تھے جنہوں نے فیکٹری کھولے جانے کی تقریب میں شرکت کرنا تھی۔ دھماکے کے بعد ایک بیان میں افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ اسلام کے خلاف دہشت گردی کا گھناؤنا ارتکاب ہے۔ ہلاک شدگان میں رکنِ پارلیمان مصطفےٰ کاظمی بھی شامل ہیں جو کرزئی حکومت کے سابق وزیر اور موجود اپوزیشن کے رہنما تھے۔ بگلان کے میئر کا کہنا ہے کہ بمبار کی صرف ٹانگیں ملی ہیں لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس کی شناخت کیا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں بغلان میں ہونے والا یہ دھماکہ خود کش حملے کا نتیجہ ہے یہ سڑک کے کنارے نصب بم پھٹا ہے۔ حکام کے مطابق ہلاک شدگان میں افغان پارلیمان کے چھ ارکان بھی شامل ہیں جو اس شوگر فیکٹری کے کھولے جانے کی تقریب میں شرکت کے لیے آئے تھے جس کے پاس دھماکہ ہوا۔ افغانستان میں تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں مقامی اور غیر ملکی افواج طالبان اور ان کے حلیفوں سے بر سرِ پیکار ہیں۔ | اسی بارے میں خودکش حملے میں پندرہ ہلاک18 August, 2007 | آس پاس ’افغان صورتِ حال بد سے بدتر‘12 June, 2007 | آس پاس 80 طالبان ہلاک کرنے کا دعوٰی28 October, 2007 | آس پاس ہلمند: نیٹو حملہ، عام شہری ہلاک30 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||