کابل بس دھماکہ، متعدد فوجی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں فوجیوں سے بھری ہوئی ایک بس میں دھماکہ سے کم از کم ستائیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں شہری بھی شامل ہیں۔ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ دھماکے سے بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور لاشیں اور انسانی اعضاء ادھر ادھر بکھر گئے۔ افغان حکام کے مطابق یہ دھماکہ ایک خود کش حملے کا نتیجہ تھا تاہم ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ اس سال کے دوران اب تک تین سو سے زائد افغان اور غیر ملکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ افغان فوج کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس دھماکے میں اکیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔انہوں نے اس خود کش دھماکے کو افغانستان کی قومی فوج پر ایک حملہ قرار دیا۔ کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار الیسٹر لیتھیڈ کا کہنا ہے کہ صبح سویرے ہونے والے اس دھماکے کے بعد کئی گھنٹے تک ایمبولنس اور پولیس کی گاڑیوں کے سائرن سنائی دیتے رہے۔ کابل شہر کی پولیس کے سربراہ جنرل علی شاہ پکتیاوال نے بتایا کہ فوجیوں سے بھری بس میں یہ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے ہوا۔ نامہ نگاروں کو کہنا ہے کہ یہ بات ابھی تک واضح نہیں ہوئی ہے کہ خود کش حملہ آور نے دھماکہ بس میں سوار ہو کر کیا یا یہ بس میں پہلے سے نصب شدہ بم سے کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق جہاں دھماکہ ہوا وہاں تباہی اور بربادی کے آثار کے سوا کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔ بس کے چیتھڑے اڑ گئے اور انسانی جسموں کے اعضاء اور خون ہر جگہ بکھر گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکہ عین اس وقت ہوا جب فوجی اس بس میں سوار ہوئے ہی تھے۔ دھماکے میں کئی راہ گیر بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ اس سال جون میں پولیس اہلکاروں کے لے کر جانے والی ایک بس میں خود کش حملہ ہوا تھا جس سے پچیس افراد مارے گئے تھے۔ | اسی بارے میں ’افغان صورتِ حال بد سے بدتر‘12 June, 2007 | آس پاس فضائی حملہ: 21 افغان شہری ہلاک09 May, 2007 | آس پاس ہلمند میں دسیوں طالبان ہلاک31 May, 2007 | آس پاس قندھار: دو بم دھماکے، چھ ہلاک17 May, 2007 | آس پاس خوست میں دو دھماکے، پانچ ہلاک22 April, 2007 | آس پاس کابل میں دھماکہ چار افراد ہلاک14 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||