بنگلہ دیش متاثرین: امداد میں تاخیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ متاثرین تک خیمے، چاول اور صاف پانی جیسی امدادی اشیا پہنچنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے سربراہ فخرالدین احمد نے کہا ہے کہ جمعرات کا سمندری طوفان ایک قومی آفت تھی۔ ٹیلیوژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ اتنا بڑا ہے کہ میں یوگینڈا میں دولت مشترکہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے نہیں جاؤنگا۔ فخرالدین احمد نے کہا: ’یہ قومی تباہی ہے جس سے نمٹنے کے لیے ہر ایک کو آگے بڑھنا ہوگا۔ نہ ذات کی تمیز کرنی ہوگی نہ مذہب کی‘۔ انہوں نے دکانداروں اور تاجروں سے اپیل کی کہ اپنی سماجی ذمہ داری اور وقت کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے چیزوں کی قیتیں نہ بڑھائیں۔ بنگلہ دیش کو باہر کے ملکوں سے ایک سو چالیس ملین ڈالر کی امداد کے وعدے ہوئے ہیں لیکن اس نے مزید امداد کی اپیل کی ہے۔ بنگلہ دیش نے سمندری طوفان ’سدر‘ سے متاثرہ افراد کے لیے مزید عالمی امداد کی اپیل کی ہے۔ جمعرات کو آنے والے سمندری طوفان سے بنگلہ دیش میں کم از کم اکتیس سو افراد ہلاک اور دس لاکھ خاندان متاثر ہوئے ہیں جبکہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ روز بنگلہ دیشی فوج کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ طوفان سے متاثرہ ساحلی دیہات کی تیس فیصد آبادی تک امداد نہیں پہنچائی جا سکی ہے۔ ادھر بنگلہ دیش کی وزراتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ’اس وقت ہم بین الاقوامی امداد کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہم متاثرین کی مدد کے لیے اپنی حیثیت کے مطابق کوششیں کر رہے ہیں‘۔ |
اسی بارے میں بنگلہ دیش طوفان: 2300 افراد ہلاک 19 November, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش:ہلاکتوں میں اضافہ19 November, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: ہلاکتیں دو ہزار ہوگئیں18 November, 2007 | آس پاس 1500ہلاک، امدادی کام جاری17 November, 2007 | آس پاس سمندری طوفان سے چھ سو ہلاک16 November, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||