تین ہزار کان کن زیر زمین پھنس گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افریقہ میں سونے کی ایک کان میں کام کرنے والے لگ بھگ 3000 مزدور زیر زمین ایک لِفٹ ٹوٹ جانے کے بعد پھنس گئے ہیں۔ حکام کے مطاب ان پھنسے ہوئے کان کنوں کو بچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ یہ کان جوہانسبرگ کے قریب ہے۔ ہارمونی گولڈ مائننگ کمپنی، جو اس کان کی مالک ہے، کی ترجمان امیلیا سواریس نے بتایا کہ پھنسے ہوئے کان کنوں میں کوئی زخمی نہیں ہوا ہے اور انہیں پینے کا پانی دستیاب ہے۔ جنوبی افریقہ کے حکام نے بتایا کہ یہ حادثہ اس لیے پیش آیا کیونکہ ایک پائپ ٹوٹ گیا جس کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی بند ہوگئی اور مزدوروں کو نیچے لے جانے والے لِفٹ کا شافٹ ٹوٹ گیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ جہاں مزدور پھنسے ہیں وہاں سانس لینا ممکن ہے اور امدادی کارکن مزدوروں سے رابطے میں ہیں۔ آخری اطلاعات ملنے تک لگ بھگ پچہتر کان کنوں کو قریبی لِفٹ کے ذریعے باہر نکال لیا گیا تھا۔ تاہم کان کنوں کو باہر نکالنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے کیونکہ ہر گھنٹے صرف تین سو افراد کو ساتھ والے لِفٹ کے ذریعے نکالا جاسکتا ہے۔ جنوبی افریقہ کے کان کنوں کی تنظیم نیشنل یونین آف مائن ورکرز نے پھنسے ہوئے مزدوروں کی سکیورٹی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کی ترجمان لسیبا سیشوکا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم امید چھوڑ رہے ہیں۔۔۔ چھ بجے صبح سے اب تک ان مزدوروں کا دم گھُٹ رہا ہوگا۔‘ جنوبی افریقہ کی سونے کی کانیں کافی گہری ہوتی ہیں۔ | اسی بارے میں چین:ایک سو بہتّر کان کن پھنس گئے18 August, 2007 | آس پاس چین: ایک سو ستر کان کن پھنس گئے28 November, 2004 | آس پاس دھماکے میں باسٹھ کان کن ہلاک08 December, 2005 | آس پاس چین: دو حادثات میں 34 ہلاک12 February, 2006 | آس پاس چین: کوئلے کان میں دھماکہ02 November, 2005 | آس پاس چین میں دھماکہ، 203 ہلاک15 February, 2005 | آس پاس چینی کان میں دھماکہ: 56 ہلاک21 October, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||