ایٹمی ڈیڈلائن پر شمالی کوریا متفق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے ایک عالمی سمجھوتے کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت جنوبی کوریا اپنا ایٹمی پروگرام اس سال کے آخر تک مکمل طور پر بند کردے گا۔ یہ سمجھوتہ اختتام ہفتہ پر امریکہ، روس، جنوبی کوریا، چین، جاپان اور شمالی کوریا کے درمیان چھ فریقی مذاکرات کے بعد طے پایا تھا۔ صدر جارج بش نے کہا کہ اس سمجھوتے سے کوریائی خطے کا پرامن مستقبل یقینی ہوجائے گا۔ شمالی کوریا یونگ بیون میں اپنا ایٹمی ری ایکٹر اس سمجھوتے کے تحت اس سال کے آخر تک بند کرنے کو تیار ہوگیا ہے۔ آئندہ دو ہفتوں میں ایٹمی اسلحوں کے ماہرین امریکہ کی سربراہی میں شمالی کوریا جائیں گے تاکہ اس ایٹمی ری ایکٹر کو بند کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی جائیں۔ چین کے نائب وزیر خارجہ وُو داویئ نے اس سمجھوتے کا اعلان کیا اور یہ بھی بتایا کہ شمالی کوریا اپنے ایٹمی پروگراموں کے بارے میں ’مکمل اور صحیح‘ تفصیلات بتائے گا۔ امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری کرِسٹوفر ہِل نے کہا ہے کہ امریکہ شمالی کوریا کے ساتھ مل کر اس بات کے لیے کام کرے گا کہ اس کو اس امریکی فہرست سے ہٹایا جاسکے جن میں ان ممالک کے نام ہیں جو دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں۔ اس سمجھوتے کے پہلے مرحلے میں شمالی کوریا نے اپنا یونگ بیون میں واقع ایٹمی ری ایکٹر بند کردیا تھا اور اس سے متعلق چار دیگر تنصیبات بھی بند کردی تھی۔ | اسی بارے میں شمالی کوریا کے میزائلوں کے تجربے25 May, 2007 | آس پاس شمالی کوریا کے ری ایکٹر کا معائنہ جلد27 June, 2007 | آس پاس شمالی کوریا: ایٹمی انسپکٹرز کو دعوت16 June, 2007 | آس پاس شمالی کوریا نے ری ایکٹر بند کردیا14 July, 2007 | آس پاس شمالی کوریا، سینکڑوں ہلاک14 August, 2007 | آس پاس طالبان نے کوریا کے شہری رہا کردیے30 August, 2007 | آس پاس ’ایٹمی پروگرام کا خاتمہ،کوریا تیار‘02 September, 2007 | آس پاس شمالی، جنوبی کوریا کی ملاقات02 October, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||