BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 October, 2007, 02:16 GMT 07:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایٹمی ڈیڈلائن پر شمالی کوریا متفق
 فائل فوٹو: یونگ بیون میں شمالی کوریا کا ری ایکٹر
فائل فوٹو: یونگ بیون میں شمالی کوریا کا ری ایکٹر
امریکی صدر جارج بش نے ایک عالمی سمجھوتے کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت جنوبی کوریا اپنا ایٹمی پروگرام اس سال کے آخر تک مکمل طور پر بند کردے گا۔

یہ سمجھوتہ اختتام ہفتہ پر امریکہ، روس، جنوبی کوریا، چین، جاپان اور شمالی کوریا کے درمیان چھ فریقی مذاکرات کے بعد طے پایا تھا۔

صدر جارج بش نے کہا کہ اس سمجھوتے سے کوریائی خطے کا پرامن مستقبل یقینی ہوجائے گا۔ شمالی کوریا یونگ بیون میں اپنا ایٹمی ری ایکٹر اس سمجھوتے کے تحت اس سال کے آخر تک بند کرنے کو تیار ہوگیا ہے۔

آئندہ دو ہفتوں میں ایٹمی اسلحوں کے ماہرین امریکہ کی سربراہی میں شمالی کوریا جائیں گے تاکہ اس ایٹمی ری ایکٹر کو بند کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی جائیں۔

چین کے نائب وزیر خارجہ وُو داویئ نے اس سمجھوتے کا اعلان کیا اور یہ بھی بتایا کہ شمالی کوریا اپنے ایٹمی پروگراموں کے بارے میں ’مکمل اور صحیح‘ تفصیلات بتائے گا۔

امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری کرِسٹوفر ہِل نے کہا ہے کہ امریکہ شمالی کوریا کے ساتھ مل کر اس بات کے لیے کام کرے گا کہ اس کو اس امریکی فہرست سے ہٹایا جاسکے جن میں ان ممالک کے نام ہیں جو دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں۔

اس سمجھوتے کے پہلے مرحلے میں شمالی کوریا نے اپنا یونگ بیون میں واقع ایٹمی ری ایکٹر بند کردیا تھا اور اس سے متعلق چار دیگر تنصیبات بھی بند کردی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد