BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 August, 2007, 12:22 GMT 17:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغداد میں دو دھماکے، ستّر ہلاک
کرادہ میں دھماکہ اس جگہ ہوا جو الیکٹرانک مصنوعات اور آئیس کریم کی دکانوں کے لیے مشہور ہے
بغداد میں دو مختلف بم دھماکوں میں کم سے کم سّتر افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں جبکہ عراق کے مرکزی سنّی سیاسی بلاک نے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے۔

’عراق اکارڈنس فرنٹ‘ کا کہنا ہے کہ شیعہ قیادت والی انتظامیہ شیعہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی سمیت ان کے دیگر مطالبات پر عمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

سنّی رہنماؤں نے عراق کے حفاظتی معاملات کے حوالے سے انہیں اہمیت نہ دینے کا بھی الزام لگایا ہے۔ عراقی کابینہ میں عراق اکارڈنس فرنٹ کے چھ وزراء ہیں۔

ادھر بغداد پولیس حکام کے مطابق شہر میں بدھ کو ہونے والے دھماکوں میں ہلاکشدگان کی تعداد سّتر تک پہنچ گئی ہے۔ پہلا دھماکہ بغداد کے شیعہ اکثریتی علاقے کرادہ میں بم دھماکے میں سترہ افراد ہلاک اور بتیس زخمی ہو گئے جبکہ اس کے بعد شہر کے سنی اکثریتی علاقے منصور میں ایک پٹرول پمپ کے قریب ٹینکر کے پھٹنے سے پچاس سے زائد لوگ مارے گئے۔

بغداد میں ہونے والے دو دھماکوں کے علاوہ بدھ کو ملک کے دیگر علاقوں میں امریکہ کے بقول اس کے تین فوجی ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ برطانیہ کا کہنا ہے کہ اس کا ایک فوجی مارا گیا ہے۔

سولہ سو ہلاک
 عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ جولائی میں ملک کے مختلف حصوں میں ایک ہزار چھ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جو کہ جون میں ہونے والی ہلاکتوں سے تقریباً ایک تہائی زیادہ ہیں۔

اطلاعات کے مطابق کرادہ میں دھماکہ اس علاقے میں ہوا جو الیکٹرانک مصنوعات اور آئس کریم کی دکانوں کے لیے مشہور ہے۔ یہ دھماکہ پارکنگ میں کھڑی ایک کار میں رکھے ہوئے بم سے ہوا۔ اسی علاقے میں گزشتہ ہفتے ایک کار دھماکے میں پچیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ بھی گزشتہ دس دنوں میں اس علاقے میں بموں کا سلسلے جاری رہا ہے۔ پیر کو چار مختلف کار بم دھماکوں میں سولہ افراد مارے گئے تھے۔

اس قسم کے دھماکوں کو روکنے کی غرض سے اس سال کے اوائل میں امریکی اور عراقی افواج نے بغداد میں سکیورٹی انتظامات سخت کیے تھے۔

جولائی میں 1600 ہلاکتیں
عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ جولائی میں ملک کے مختلف حصوں میں ایک ہزار چھ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جو کہ جون میں ہونے والی ہلاکتوں سے تقریباً ایک تہائی زیادہ ہیں۔

یہ تعداد اس سال فروری میں ہونے والی ہلاکتوں سے بھی زیادہ ہے جب امریکہ نے بغداد میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے کی غرض سے مزید ہزاروں فوجی بھیجنا شروع کیے تھے۔

’عراق جنگ کا تناؤ‘
جب رابرٹ گیٹس کی آنکھیں نم ہوگئیں
عراقی پناہ گزینپناہ گزین بڑھ گئے
پانچ سال بعد پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ
’تباہی کے دہانے پر‘
عراق تقسیم کی جانب جا رہا ہے: تھِنک ٹینک
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد