BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 29 July, 2007, 08:17 GMT 13:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ: اسلحے کی فروخت کا منصوبہ
رابرٹ گیٹس (فائل فوٹو)
رابرٹ گیٹس خلیجی ممالک کے دورے میں مجوزہ سودے پر بات کریں گے
اطلاعات کے مطابق امریکہ اگلے دس سال میں سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک کو اسلحے کی فروخت کے بیس ارب ڈالر کی مالیت کے سودے کی تیاریاں کر رہا ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ نے محکمۂ دفاع کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس سودے میں جدید ہتھیار، میزائل گائیڈنس سسٹمز، جدید لڑاکا طیارے اور بحری جہاز شامل ہیں۔ اس سودے کے بارے میں یہی کہا جا رہا ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے تیزی سے سر اٹھاتے خطرے کے تدارک کی ایک کوشش ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ امریکی وزارتِ دفاع اور خارجہ کے حکام اگلے ہفتے خلیج کے دورے کے دوران اس سودے کے بارے میں بات چیت کریں گے۔ تاہم ابھی اس سودے کی جزیات کو حتمی شکل دی جار ہی ہے۔ کانگریس میں اسلحہ کی فروخت کے اس سودے پر بحث شروع ہو گئی ہے تاہم امریکی حکام کے خلیج کے دورے کے دوران اس بارے میں کسی قسم کے اعلانات کی توقع نہیں ہے۔

سنیچر کو امریکی اخبارات نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ نے ایک سینئر امریکی افسر کا نام ظاہر کیے بغیر بتایاکہ بش انتظامیہ خلیج میں امریکی اتحادی ممالک سے اسلحے کی فروخت کے اس مجوزہ پیکج کی تیاریوں میں ہے۔

اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ اس مجوزہ سودے میں فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، جدید اور حساس گائیڈ میزائل، سعودی لڑاکا طیاروں کو اپ گریڈ کرنا اور نئے بحری جہاز شامل ہیں۔ اس سودے کے تحت پہلی بار سعوری عرب کو سیٹلائیٹ گائیڈ میزائل بھی مل سکتے ہیں۔

مجوزہ سودے کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ یہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے تیزی سے سر اٹھاتے خطرے کے تدارک کی ایک کوشش ہے

حکام نے بتایا کہ کانگریس میں اسرائیل اور اس کے حمایتوں کے اعتراضات کے پیش نظر اسرائیل کی فوجی امداد میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس اس بات پر تشویش میں مبتلا ہے کہ کانگریس میں سعودی عرب کے مخالفین اس سودے کی راہ میں روڑے اٹکائیں گے۔ کانگریس کے یہ اراکین عراق میں سعودی عرب کے بڑھتے اثر کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس ڈیل کے تحت خلیج میں امریکہ کے دوسرے اتحادی ممالک بحرین، کویت، عمان، قطر اور متحدہ عرب امارات کو بھی آلات اور
اسلحہ مل سکتا ہے۔ حکام کا مزید کہنا تھا کہ یہ سودا سنی عرب ریاستوں کی افواج کو مزید سہارا دینے کی اس دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے خطرے کا تدارک کرنا ہے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کے سینئر افسر نے جمعہ کو نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ اس خطے کی سنی عرب ریاستوں کا کام عراقی حکومت میں شامل اعتدال پسند کو یہ مثبت اور موثر پیغام دینا ہے کہ ان کے پڑوسی ان کے ساتھ ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس اور وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس اگلے ہفتے سعودی عرب کے دورے کے دوران اس مجوزہ سودے کے بارے میں بات کریں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مسٹر گیٹس سعودی حکومت کو اس بات کی یقین دہانی بھی کروائیں گے کہ عراق کی صورت حال سے قطع نظر امریکہ خطے میں اپنی پالیسی پر کاربند رہے گا۔

missileہتھیاروں کابڑاسوداگر
امریکہ دنیا کو سب سے زیادہ ہتھیار بیچتا ہے
 اسلحہاسلحہ کا بازار گرم
پابندیوں کے باوجود اسلحہ لینا مشکل نہیں
صدر بشبش کا انتباہ
امریکہ نے شام اور ایران کو متنبہ کیا ہے۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد