سعودی شہزادہ، اسلحہ، خفیہ رقم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کی ایک تحقیق کے مطابق برطانیہ اور سعودی عرب کے درمیان چالیس ارب ڈالر کے اسلحے کا معاہدہ کرانے کے لیے شہزادہ بندر بن سلطان نے ایک عشرے تک خفیہ طور پر خطیر رقومات حاصل کیں۔ شہزادہ بندر بن سلطان امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر رہ چکے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اسلحہ بنانے والی برطانوی کمپنی بی اے ای بندر بن سلطان کو ایک عشرے سے زائد تک سالانہ ایک سو بیس ملین ڈالر سے زیادہ رقم دیتی رہی۔ یہ رقم شہزادہ بندر بن سلطان کو ال یممہ اسلحہ سمجھوتے میں ان کے رول کے لیے دیا گیا۔ سن 1985 میں اس سمجھوتے کے تحت سعودی عرب نے برطانیہ سے ایک سو سے زائد طیارے خریدے تھے۔ بی بی سی کی تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ برطانوی وزارت دفاع نے شہزادہ بندر بن سلطان کو یہ خفیہ رقم دینے کی اجازت دی تھی۔ گزشتہ سال برطانوی حکومت نے اس خفیہ لین دین سے متعلق فراڈ کی تحقیقات اس وقت روک دی تھی جب اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ برطانیہ کے قومی مفاد میں نہیں ہوگا۔ بی بی سی کی تحقیقاتی رپورٹ پر شہزادہ بندر بن سلطان نے اپنا ردعمل ظاہر کرنے سے انکار کردیا ہے۔ جبکہ برطانوی کمپنی بی اے ای نے کہا ہے کہ اس نے جو کچھ بھی کیا وہ قانون کے تحت تھا۔ برطانوی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ وہ اسلحہ سمجھوتے کے بارے میں کسی بھی تفصیل کا انکشاف نہیں کرے گی کیوں کہ یہ خفیہ معاملہ تھا۔ | اسی بارے میں اسلحہ معاہدے میں فراڈ پر تحقیقات بند14 December, 2006 | آس پاس اب عرب مما لک کا جوہری پروگرام11 December, 2006 | آس پاس سعودیہ: چندہ جمع کرنے پرگرفتاریاں03 February, 2007 | آس پاس سعودیہ: خفیہ مذاکرات کی تردید26 September, 2006 | آس پاس سعودی منصوبہ، تبدیلیاں مسترد14 March, 2007 | آس پاس مغرب بھی ذمہ دار ہے: سعود الفیصل16 January, 2006 | آس پاس سعودی عرب: 172 مشتبہ افراد گرفتار27 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||