اب عرب مما لک کا جوہری پروگرام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خلیجی تعاون کونسل کے چھ ملکوں نے سعودی دارالحکومت ریاض میں اپنے سربراہ اجلاس کے بعد پرامن جوہری توانائی کے مشترکہ پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ بحرین، کویت، اومان، قطر، سعودی عرب، اور متحدہ عرب امارات کے مندوبین نے اس کانفرنس میں اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے کو پرامن طریقے سے حل کیا جائے۔ ان چھ عرب ملکوں نے کہا ہے کہ وہ مشترکہ جوہری پروگرام شروع کرنے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔ سربراہ اجلاس کے بعدایک پریس کانفرنس میں سعودی وزیرخارجہ سعود الفیصل کی طرف سے اس مشترکہ جوہری پروگرام کا اعلان خاصا حیران کن تھا۔ یہ اعلان مشرق وسطٰی میں انتہائی کشیدگی کے ایسے ماحول میں کیا گیا ہے جس کو خود سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ نے بارود کے ڈھیر سے تعبیر کیا ہے جسے صرف چنگاری دکھانے کی دیر ہے۔ سعودی وزیرخارجہ کے بقول اس پرامن جوہری پروگرام سےہتھیاروں کی دوڑ شروع نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو یہ دھمکی ہے اور نہ ہی یہ کام چھپ کر کیا جارہا ہے۔ ’ہم ساری دنیا کے سامنے یہ کام کریں گے اور ہمیں جوہری بم کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہم تو بڑے ہلاکت خیز ہتھیاروں سے پاک خطہ چاہتے ہیں اور یقیناً ہم ان بڑے ہلاکت خیز ہتھیاروں کے خطرے میں کوئی اضافہ نہیں کریں گے۔‘ کونسل نے سعود الفیصل نے اسرائیل کی بھی مذمت کی جس نے سب سے پہلے بقول ان کے، جوہری توانائی کو صرف ہتھیاروں کے لیے استعمال کرنے کا گناہ کیا۔ ان کے مطابق خلیج کے ملک اس ٹیکنالوجی کو صرف پرامن مقاصد کے لیے استعمال کریں گے۔ خلیج تعاون کونسل کے ملکوں نے ایران کی طرف سے یورینیم کی افزودگی کو روکنے سے انکار پر اپنی تشویش کا اظہار کیا تاہم انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ پرامن مقاصد کے جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کا ان کا اعلان ایرانی پروگرام کا ردعمل ہے۔ ایران بھی اپنے جوہری پروگرام کا بالکل یہی جواز پیش کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایران کے خلاف تادیبی پابندیوں پر غور کررہی ہے۔ | اسی بارے میں خفیہ پلانٹ کی تصاویر منظر عام پر 05 July, 2004 | آس پاس اسرائیل: ایٹمی تخفیف کا مطالبہ27 June, 2004 | آس پاس ایران عالمی معائنہ کاری پر رضامند24 November, 2006 | آس پاس ایران کے لیے نیا مسودۂ قرارداد تیار09 December, 2006 | آس پاس جوہری دھماکوں کی تصدیق14 October, 2006 | آس پاس بھارت سےجوہری معاہدے کی منظوری09 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||