اسلحہ فرموں پر امریکی پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے غیر قانونی طور پر ایران کو فوجی سازوسامان کی فراہمی پر روس، شمالی کوریا، انڈیا اور کیوبا کی اسلحہ فرموں پر پابندی لگا دی ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ ان فرموں نے یہ سازوسامان تہران کو بیچ کر امریکن قانون کو توڑا ہے کیونکہ یہ سازوسامان وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار بنانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ امریکی فرموں کو ان کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کو روک دیا گیا ہے۔ روس کے وزیر خارجہ نے اسے غیر قانونی کہہ کر اس کی مذمت کی ہے۔گزشتہ سال ماسکو نے سات سو ملین کی لاگت کا سازوسامان ایران کو مہیا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پابندی لگائے جانے والی کمپنیوں میں روسی کمپنی سوخوئی بھی شامل ہے۔ اس کمپنی نے کہا ہے کہ ان کا تہران کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے۔ کمپنی کے چئیرمین نے روسی ریڈیو ماسکو ایکو کو اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کم از کم گزشتہ چھ سالوں سے تہران کو کوئی اوزار فراہم نہیں کیاہے۔ امریکہ نے یہ پابندی 2000 کے ایران نان پرولیفیریشن ایکٹ کے تحت لگائی ہے۔ ایک امریکی افسر کے مطابق یہ پابندی ان شواہد کے ملنے پر لگائی ہے کہ ان کمپنیوں نے ایران کو جنوری 1999 سے اب تک بہت سے ہتھیار مہیا کئے ہیں۔ سوخوئی کے علاوہ روسی کمپنی روزوبورونیکسپورٹ پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔ پابندی لگنے والوں میں دو انڈین کمپنیاں بالا جی امائنز لمٹیڈ اور پراچی پولی پراڈکٹس بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شمالی کوریا کی کورین مائننگ اینڈ انّڈ سٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن، کوریا پگانگ ٹریڈنگ کارپوریشن اور کیوبا کی کمپنی سنٹر فار جینٹنگ انجینئرنگ اینڈبائو ٹیکنالوجی بھی شامل ہیں۔ | اسی بارے میں جوہری تجاویز رد کرسکتے ہیں: ایران30 July, 2006 | آس پاس اقوام متحدہ: ایران کے لیئے ڈیڈلائن31 July, 2006 | آس پاس ایران کے جوہری ایندھن کی بحث02 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||