| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ: ہتھیاروں کا سب سے بڑا سوداگر
اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ کے مطابق امریکہ ابھی تک دنیا میں سب سے زیادہ ہتھیار فروخت کرتا ہے۔ ’نیو یارک ٹائمز‘ کو معلومات کانگریس کو پیش کی گئی ایک خفیہ رپورٹ سے ملی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال بھی امریکہ ہتھیار بیچنے کی دوڑ میں سب سے آگے رہا خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کو ہتھیار بیچنے میں۔ سال دو ہزار دو میں امریکہ نے تیرہ اعشاریہ تین ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کئے جو دنیا میں بکنے والے روایتی ہتھیاروں کی کل فروخت کا پینتالیس اعشاریہ پانچ فیصد ہے اور اس سے پچھلے سال بارہ اعشاریہ ایک ارب ڈالر کی امریکی فروخت سے زیادہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس میں سے آٹھ اعشاریہ چھ ارب کے روایتی ہتھیار صرف ترقی پذیر ممالک کو بیچے گئے جو کہ ان ممالک کیلئے دنیا بھر سے خریدے گئے اسلحے کا نصف ہے۔
امریکہ کے بعد ترقی پذیر ممالک کو بیچے جانے والے اسلحے میں روس نمبر دو پر ہے جس نے پانچ ارب ڈالر کے ہتھیار انہیں فروخت کئے جبکہ تیسرے نمبر پر ایک ارب ڈالر کی فروخت کے ساتھ فرانس کا نمبر آتا ہے۔ ’نیو یارک ٹائمز‘ میں چھپنے والی اس رپورٹ کا ماخذ ’ترقی پذیر ممالک کو روایتی ہتھیاروں کی منتقلی انیس سو پچانوے تا دوہزار دو‘ نامی ایک رپورٹ ہے جو امریکی کانگریس کو پیش کی گئی ہے۔ اس کے مصنف رچرڈ ایف گرمٹ نے یہ رپورٹ کانگریشنل ریسرچ سروس کے لئے تیار کی ہے جو لائبریری آف کانگریس کی ہی ایک شاخ ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق انیس سو ننانوے سے دو ہزار دو کے دوران چین، یورپ، روس یا امریکہ کی طرف سے زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائلوں میں سے کوئی بھی مشرق وسطیٰ کے ممالک کو فراہم نہیں کئے گئے۔ تاہم مشرق وسطیٰ کو زمین سے زمین تک مار کرنے والے ساٹھ میزائل ان قوموں نے فراہم کئے جو ’دیگر تمام‘ ممالک کی درجہ بندی میں رکھے گئے ہیں۔ ان میں اسرائیل، جنوبی افریقہ اور شمالی کوریا شامل ہیں۔ اخبار کے مطابق جمعرات کے روز امریکی فوجی اور سویلین دونوں حکام نے کہا کہ یہ ہتھیار شمالی کوریا نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کو فروخت کئے ہیں جن کا ذکر رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
دو سال قبل انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ امریکہ دنیا بھر میں تشدد کے آلات بھی سب سے زیادہ بیچتا ہے۔ رپورٹ کا کہنا تھا کہ باوجود دنیا کے کئی ممالک پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر سرکاری ردعمل طاہر کرنے کے امریکہ انہی ممالک کو بڑے پیمانے پر تشدد کے جدید ترین آلات فراہم کرتا ہے جن میں سعودی عرب بھی شامل ہے۔ تشدد کے یہ آلات ان ممالک میں قانون نافذ کرنے والے اور دیگر خفیہ ادارے مظاہرین کو منتشر کرنے یا قیدیوں پر تفتیش کے دوران استعمال کرتے ہیں اور ان میں میکینیکل اور کیمیائی آلات بھی شامل ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||