BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 July, 2007, 08:24 GMT 13:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مذاکرات تاریخ ساز موقع: اسرائیل
مصر کے وزیرِ خارجہ احمد ابوالغیط اور ان کے اردنی ہم منصب عبداللہ الخطیب
عرب وزرائے خارجہ کے دورے کا بنیادی مقصد امن منصوبے کو آگے بڑھانا ہے
اسرائیلی وزیرِ خارجہ زپی لیونی نے مشرقِ وسطٰی میں قیامِ امن کے حوالے سے مصر اور اردن کے وزرائے خارجہ کے دورۂ اسرائیل کو عرب اسرائیل تعلقات کے حوالے سے تاریخی موقع قرار دیا ہے۔

انہوں نے یہ بیان یروشلم میں عرب وزرائے خارجہ سے ملاقات کے بعد دیا جس میں اسرائیلی حکام کے سامنے ایک مرتبہ پھر علاقے میں قیامِ امن کے منصوبے کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں۔

اردن اور مصر کے وزرائے خارجہ اپنے دورے میں اسرائیلی وزیرِاعظم ایہود اولمرت سے بھی ملاقات کریں گے۔ اردن اور مصر ہی وہ دو عرب ممالک ہیں جو اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں۔

ابتداء میں یہ کہا گیا تھا کہ مصر کے وزیرِ خارجہ احمد ابوالغیط اور ان کے اردنی ہم منصب عبداللہ الخطیب پر مشتمل یہ وفد عرب لیگ کی نمائندگی کر رہا ہے تاہم بعد ازاں عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ وفد عرب لیگ کا نمائندہ وفد نہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل امر موسٰی نے کہا کہ ان وزراء کے پاس عرب لیگ کا مینڈیٹ نہیں اور وہ وہاں یہ جائزہ لینے گئے ہیں کہ مذاکرات کے حوالے سے اسرائیل کس حد تک رضامند ہے۔

عرب وزرائے خارجہ کے دورۂ اسرائیل کا بنیادی مقصد امن منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوشش کرنا ہے۔ اسرائیل اس معاملے پر ماضی میں سرد مہری سے کام لیتا رہا ہے لیکن نامہ نگاروں کے مطابق اب وہ بات چیت کے لیے تیار ہے۔

دونوں عرب وزرائے خارجہ اسرائیلی حکام کے سامنے تمام مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی فوج کی واپسی، فلسطینی ریاست کے قیام اور فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے کے حل کے بدلے میں تمام عرب ممالک سے دو طرفہ تعلقات کی تجویز پیش کریں گے۔

عرب لیگ کے وفد کا اسرائیل جانا ان سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہے جن کا مقصد مشرقِ وسطٰی میں امن عمل کا احیاء ہے اور اگر یہ اعتدال پسند قوتیں سرگرمِ عمل رہیں تو قیامِ امن ممکن ہو سکتا ہے۔
مبصرین

اسرائیل سنہ 2002 میں یہ تجاویز رد کر چکا ہے۔ تاہم حال ہی میں اسرائیلی حکام نے ایسے اشارے دیے ہیں کہ ان تجاویز پر بات چیت ممکن ہے۔

بدھ کو ایک اسرائیلی اخبار نے لکھا کہ اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ ایک ایسا’ اصولی سمجھوتہ‘ کرنے پر غور کر رہا ہے جس کے نتیجے میں نوّے فیصد مقبوضہ علاقوں میں ایک فلسطینی ریاست قائم ہو سکتی ہے۔

یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ عرب لیگ کے وفد کا اسرائیل جانا ان سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہے جن کا مقصد مشرقِ وسطٰی میں امن عمل کا احیاء ہے اور اگر یہ اعتدال پسند قوتیں سرگرمِ عمل رہیں تو قیامِ امن ممکن ہو سکتا ہے۔ تاہم نامہ نگاروں کے مطابق ان سفارتی کوششوں کے حوالے سے بیشتر حلقوں میں ناامیدی ہی پائی جاتی ہے۔

ادھر مشرقِ وسطٰی میں قیامِ امن کے لیے کوششوں میں مصروف اہم طاقتوں کے ایلچی اور برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر نے غربِ اردن کے دورے کے بعد کہا ہے کہ انہیں قیامِ امن کے حوالے سے امید کی کرن نظر آ رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد