BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 July, 2007, 16:41 GMT 21:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آزاد ہونا اچھا لگ رہا ہے: جانسٹن
 ایلن جانسٹن
ایلن جانسٹن رہائی کے بعد حماس کے رہنما اسماعیل کے ساتھ سامنے آئے
بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جانسٹن نے غزہ میں 114 دن کی حراست کے بعد رہائی ملنے پر کہا ہے کہ ’آزاد ہونا ناقابلِ تصور حد تک اچھا ہے۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار کو بدھ کی صبح رہا کرنے کے بعد غزہ میں حماس کے رہنماؤں کے حوالے کیا گیا تھا۔



جس کے بعد وہ حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے ساتھ لوگوں کے سامنے آئے اور ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی رہائی کے لیے کی جانے والی کوششوں میں حصہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے حراست کے دوران کوئی اذیت نہیں پہنچائی گئی۔ انہیں 12 مارچ کو آرمی آف اسلام نامی گروپ نے اغوا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب پس منظر میں چلے جائیں گے اور مستقبل میں ’گڑ بڑ سے دور رہنے کی کوشش کریں گے‘۔

اب جانسٹن یروشلم میں واقع برطانوی قونصل خانے میں ہیں اور ان کی بدھ کو وطن واپسی ممکن نہیں۔ بدھ کی شام لندن میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یلن جانسٹن کو ان کی غزہ رپورٹنگ کے لیے اعزاز کا اعلان کیا۔

ایلن جونسٹن
ایلن جونسٹن اب گڑ بڑ سے دور رہنے کی کوشش کریں گے

ایلن جانسٹن نے رہائی کے بعد اپنے اغواء اور رہائی کی کیفیت کے لیے ’زندہ در گور‘ ہونے کے الفاظ استعمال کیے اور کہا کہ آزاد ہونا ’زبردست‘ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے تین ماہ تک سورج نہیں دیکھا اور ایک بار انہیں چوبیس گھنٹے تک مسلسل زنجیروں میں رکھا گیا۔

جانسٹن کے والد مسٹرگراہم نے ان کی رہائی پر کہا ہے کہ وہ اور ان کی اہلیہ اپنے بیٹے کی رہائی پر انتہائی خوش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سو چوالیس دن کا عرصہ ایک ’ایسا ہولناک خواب تھا جو ایک سو چوالیس دن تک جاری رہا‘۔

اسماعیل ہنیہ نے جانسٹن کی رہائی پر کہا ہے کہ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ حماس وطن عزیز کے اس حصے میں امن و امان کے قیام اور قانون کا بالا دستی کے نفاذ میں سنجیدہ ہے۔

برطانوی پارلیمان سے اپنے پہلے خطاب میں وزیرِ اعظم گورڈن براؤن نے کہا کہ پورا ملک اس خبر کا خیر مقدم کرے گا کہ نڈر صحافی ایلن جونسٹن جن کی آواز کو ایک لمبے عرصے تک خاموش کیا گیا تھا اب آزاد ہیں۔

رہائی کے لیے مظاہرہ
جانسٹن نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی رہائی کی کوششیں کیں

گورڈن براؤن نے جونسٹن کی رہائی میں حماس کے اہم کردار کو سراہا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ برطانیہ کی حماس کے متعلق پالیسی نہیں بدلی ہے اور اس سے اب بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرے اور عدم تشدد کا راستہ اختیار کرے۔

رہائی کے بعد ایلن جانسٹن نے نیوز کانفرنس میں اور کہا کہ اغواء کے دوران کبھی کبھی صورتِ حال انتہائی خوفناک بھی ہو جاتی تھی اور ’اب معمول کی زندگی میں لوٹنا ناقابلِ یقین لگتا ہے‘۔

اطلاعات کے مطابق انہیں غزہ میں حماس کے حکام کے حوالے کیا گیا ہے۔ اس سے قبل حماس نے کہا تھا کہ وہ جانسٹن کی رہائی کے لیے کوشش کر رہی ہے اور اس حوالے سے اس نے دو جولائی کو جانسٹن کے مغوی گروپ کے ارکان کی گرفتاری کا بھی دعوٰی کیا تھا۔

رہائی کے بعد بی بی سی عربی سروس سے بات کرتے ہوئے ایلن جانسٹن کا کہنا تھا کہ وہ خیریت سے ہیں اور فلسطینی عوام کی جانب سے حمایت پر ان کے شکرگزار ہیں۔

رہائی کے بعد جانسٹن جب میڈیا کے سامنے آئے تو انہوں نے سر کو کلین شیو کیا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رہائی کے بعد جو انہوں نے پہلا کام کیا وہ حجام کے پاس جانا تھا کیونکہ ’ابھی ابھی اغوا‘ ہونے والی صورت سے نجات حاصل کی جا سکے۔

چوالیس سالہ جانسٹن کو بارہ مارچ کو غزہ میں نقاب پوش مسلح افراد نے اس وقت اغواء کر لیا تھا جب وہ اپنی کار میں گھر جا رہے تھے۔ بعد ازاں جیش الاسلام نامی تنظیم نے ان کے اغواء کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

جانسٹن کے اغواء کی خبر کے منظر عام پر آتے ہی دنیا بھر میں سیاسی رہنماؤں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان کی رہائی کے لیے اپیلیں شروع کردی تھیں۔

اغوا کو سو دن
اغوا شدہ ایلن جانسٹن: بزلہ سنج، نرم گفتار
اسی بارے میں
ایلن جونسٹن کی سالگرہ
17 May, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد