ایلن جونسٹن کی سالگرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی، اقوام متحدہ اور صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیموں نے جمعرات کو بی بی سی کے غزہ سے اغوا کیے گئے نامہ نگار ایلن جانسٹن کی پینتالیسویں سالگرہ منائی۔ اس سلسلہ میں صحافیوں نے ایران، ہانگ کانگ، غرب اردن اور ماسکو میں تقریبات منعقد کیں۔ حکام کے مطابق برطانوی حکومت یہاں پر قید مسلمان مقرر ابوقتادہ کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے کیونکہ ابو قتادہ نے ایلن جانسٹن کی رہائی میں مدد کی پیشکش کر رکھی ہے۔ لندن کی ایک اسلامی تنظیم نے کہا ہے کہ اسے ابو قتادہ کا ایک خط موصول ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ بی بی سی کے نمائندوں کے ساتھ غزہ جا کر اغوا کاروں سے رابطہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ واضح رہے کہ تقریباً دس دن قبل الجزیرہ ٹی وی چینل کو ایلن جانسٹن کے اغوا کاروں کی جانب سے ایک ٹیپ موصول ہوئی تھی جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ جیش اسلام نامی ایک تنظیم کی طرف سے بھیجی گئی ہے۔ ٹیپ میں قرانی آیات کی تلاوت کے علاوہ برطانوی حکومت سے ابوقتادہ سمیت برطانیہ کی جیلوں میں قید دیگر مسلمانوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔ ہانگ کانگ میں ’غیر ملکی نامہ نگاروں کا کلب‘ نامی تنظیم کے ترجمان نے سالگرہ کے موقع پر ایلن جانسٹن کی ہمت اور پیشہ ورانہ خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا: ’ ایلن جانسٹن ایک خطرناک علاقے میں نہایت دلیری سے خدمات انجام دیتے رہے ہیں اور ان کے اغوا کاروں کو یہ بات معلوم ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ایلن کو فوری طور پر آزاد کیا جائے۔‘ تہران میں ایرانی صحافیوں کی ایسوسی ایشن کے سربراہ، ماشاءاللہ شمس الویزان نے دنیا کے تمام آزادی پسند صحافیوں کی جانب سے ایلن جانسٹن کے لیے گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔ دریں اثناء بی بی سی نے کہا ہے کہ اگرچہ غزہ میں کچھ دنوں سے بگڑتی ہوئی صورتحال پریشان کن ہے لیکن اغوا شدہ صحافی کو رہا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ بی بی سی نے ایلن جانسٹن کی سالگرہ کے دن خصوصی پروگرام، انٹرویو اور تہنیتی پیغامات اس امیدکے ساتھ نشر کیے ہیں کہ شاید ایلن یہ پروگرام ریڈیو پر سن سکیں یا ٹی وی پر دیکھ سکیں۔ اس موقع پر بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل مارک تھامپسن نے کہا ’ یہ نہایت دکھ کی بات ہے کہ ایلن اپنی سالگرہ نہیں منا پا رہے لیکن میں جانتا ہوں کہ ادارے میں ہر جگہ ان کے دوستوں اور خیر خواہوں کی ایک ہی خواہش ہے کہ ایلن خیریت سے ہوں اور جلد اپنے گھر والوں سے آ ملیں۔‘ ایلن جونسٹن کو غزہ میں بارہ مارچ کواپنے گھر جاتے ہوئے بندوق کی نوک پر اغواء کر لیا گیا تھا۔ سوائے الـجزیرہ کو ملنے والی رپورٹ کے اغواءکاروں کا کوئی اور مطالبہ سامنے نہیں آیا ہے۔ اس سے قبل ایک فلسطینی گروپ التوحید الجہاد نامی نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بی بی سی کے غزہ سے لاپتہ ہونے والے نامہ نگار ایلن جونسٹن کو ہلاک کر دیا ہے۔تاہم اس دعوی کی تصدیق نہیں ہو پائی تھی۔ جبکہ فلسطینی حکومت نے کہا تھا کہ ان خفیہ ایجنسیوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جونسٹن زندہ ہیں اور ان کی بازیابی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ٹیپ کے موصول ہونے کی خبر صحافی ایلن جانسٹن کی بازیابی کے لیے کی جانے والی کوششوں کے سلسلے میں ایک سینئیر برطانوی سفارت کار کی حماس کے رہنما وزیراعظم اسماعیل ہنیہ سے ملاقات کے کئی گھنٹے بعد سامنے آئی ہے۔یروشلم میں برطانوی قونصل جنرل رچرڈ میکپیس نے کہا ہے کہ مسٹر جونسٹن کے اغواء کے بارے میں برطانیہ میں بہت تشویش پائی جاتی ہے۔ ایلن جونسٹن کی آزادی کے لیے بڑے پیمانے پر اپیلیں کی گئی ہیں جن میں برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون کی اپیل بھی شامل ہے۔ پیر کو اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے کمشنر لوئس آربر نے بھی اغوا کاروں سے درخواست کی تھی کہ ’اس بہت ہی نفیس شخص کو آزاد کر دیں‘۔ ایلن جونسٹن 1991 میں بی بی سی سے وابستہ ہوئے۔ سولہ سال کے دوران آٹھ سال انہوں نے بطور نامہ نگار کام کیا ہے جس میں کچھ وقت انہوں نے ازبکستان اور افغانستان میں بھی گزارا۔ گزشتہ تین سال سے غزہ جیسے پُر تشدد علاقے میں مستقل طور پر رہائش اختیار کرنے والے وہ واحد غیرملکی صحافی تھے۔ مارچ کے آخر میں غزہ میں ان کی ملازمت کی مدت ختم ہونے والی تھی۔ | اسی بارے میں ایلن جونسٹن کے بدلے ابوقتادہ09 May, 2007 | آس پاس غزہ: مغویوں کے لیئے ڈیڈ لائن ختم 26 August, 2006 | آس پاس جونسٹن کیلیے بی بی سی کو تشویش15 April, 2007 | آس پاس ایلن جونسٹن ’زندہ‘ ہیں : محمود عباس20 April, 2007 | آس پاس فلسطین: صحافی کے لیے مظاہرے07 April, 2007 | آس پاس برطانوی سفیر کا حماس سے رابطہ06 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||