BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 April, 2007, 14:18 GMT 19:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جونسٹن کیلیے بی بی سی کو تشویش
ایلن جونسٹن
ایلن جونسٹن غزہ میں آخری مرتبہ بارہ مارچ کو دیکھے گئے تھے
التوحید الجہاد نامی ایک فلسطینی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بی بی سی کے غزہ سے لاپتہ ہونے والے نامہ نگار ایلن جونسٹن کو ہلاک کر دیا ہے۔

بی بی سی کا کہنا ہے کہ انہیں ایلن جونسٹن کی ہلاکت کے بارے میں آنے والی اطلاعات کا علم ہے اور اسے ان پر تشویش ہیں تاہم ادارے نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ابھی تک آزادانہ ذرائع سے ایلن جونسٹن کی ہلاکت کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

خبر رساں اداروں کو فیکس کے ذریعے ملنے والے ایک بیان میں مذکورہ گروپ نے ایلن جونسٹن کو ان کی حراست کی وجہ سے ملنے والی توجہ کا تقابل جیلوں میں پڑے فلسطینیوں کی حالت سے کیا ہے۔

بی بی سی نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ادارہ ایلن جونسٹن کی ہلاکت کی خبر سن کر بہت پریشان ہے، ’ لیکن ہم زود دیں گے کہ تاحال یہ صرف ایک افواہ ہے جس کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔‘

اس دوران فلسطینی انتظامیہ نے بھی کہا ہے کہ ان کے پاس بھی ایسی کوئی خبر نہیں ہے جس سے یہ تصدیق ہو سکے کہ ایلن جونسٹن کے ساتھ کیا ہوا ہے۔

لندن میں برطانوی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ انہیں بھی ان اطلاعات کی خبر ہے اور وہ اسے ترجیحی بنیاد پر دیکھ رہے ہیں۔

بی بی سی کے مائیک ولڈرج کا کہنا ہے کہ جس گروپ نے ایلن جونسٹن کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے اسے فلسطین کے حوالے سے بظاہر زیادہ لوگ نہیں جانتے۔

ایلن جونسٹن بارہ مارچ سے لاپتہ ہیں اور عام خیال یہی رہا ہے کہ انہیں نامعلوم نقاب پوشوں نے اغواء کیا تھا تاہم کسی گروہ نے ان کے اغواء کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔

ایلن جونسٹن سترہ مئی انیس سو باسٹھ کو تنزانیہ کے شہر لنڈی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے سکاٹ لینڈ کی ڈنڈی یونیورسٹی سے سیاسیات اور انگریزی میں ایم اے کیا تھا اور یونیورسٹی آف ویلز سے جرنلزم سٹڈیز میں ڈپلومہ لیا تھا۔

ایلن جونسٹن نے بی بی سی کے ساتھ اپنے کیرئر کا آغاز انیس سو اکانوے میں کیا تھا جب وہ بطور سب ایڈیٹر عالمی سروس کے نیوز روم سے منسلک ہوئے۔

وہ انیس سو ترانوے اور انیس سو پچانوے کے درمیانی عرصے میں تاشقند میں بی بی سی کے نامہ نگار رہے جبکہ انیس سو ترانوے چورانوے میں وہ ایک سال کے لیے افغانستان کے دارالحکومت میں تعینات تھے۔

بعد میں وہ لندن لوٹ آئے اور بی بی سی کی عالمی سروس کے معروف پروگرام ’دی ورلڈ ٹوڈے‘ کے پروگرام ایڈیٹر کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔

غزہ میں ان کی تین سالہ تعیناتی کا آغاز اپریل دو ہزار چار میں ہوا۔ اس دوران وہ بی بی سی ریڈیو اور ٹیلی ویژن دونوں کے لیے رپورٹنگ کرتے رہے۔گزشتہ تین سال سے غزہ جیسے پُر تشدد علاقے میں مستقل طور پر رہائش اختیار کرنے والے وہ واحد غیرملکی صحافی ہیں۔

ایلن جونسٹن کی بازیابی کے لیے غزہ میں مظاہرے کیے گئے تھے

ایلن جونسٹن کے اغواء کیے جانے کے ٹھیک ایک ماہ بعد بین الاقوامی نشریاتی ادارے بی بی سی، الجزیرہ، سی این این اور سکائی نے ان کی گمشدگی کے بارے میں بیک وقت ایک خصوصی لائیو پروگرام نشر کیا تھا جو اپنی نوعیت کا خاص واقعہ تھا۔

غربِ اردن میں بی بی سی کے ڈائریکٹر مارک تھامسن نے براہ راست ان کی رہائی کی اپیل کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ ان کی گمشدگی کے بارے میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔

مارک تھامسن نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے بدھ کو ایک ملاقات کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ محمود عباس نے انہیں بتایا کہ مصدقہ شواہد کے مطابق ایلن ٹھیک ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا ہے کہ فلسطینی حکام ایلن کی بازیابی کے لیے ہر ممکن کوششوں میں مصروف اور اس مسئلہ کو جلد از جلد حل کرنے کے خواہش مند ہیں۔

گزشتہ ہفتے ایلن جونسٹن کے اہل خانہ نے بھی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا تھا۔

غزہ میں اس سے پہلے بھی کئی صحافیوں کو مغوی بنایا جا چکا ہے تاہم ایلن جونسٹن سے پہلے وہاں کسی اور صحافی کو اتنے طویل عرصے تک اغواء نہیں رکھا گیا۔

ایلن جونسٹنبی بی سی کی اپیل
ایلن جونسٹن کی بازیابی کے لیے ’ایکشن ڈے‘
حماس سے رابطہ
برطانیہ اور حماس کا پہلا رابطہ
اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد