ایلن جانسٹن کے لیے پھرمظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صحافیوں اور ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والوں نے بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جانسٹن کی رہائی کے لیے ایک بار پھر غزہ اور غرب اردن میں مظاہرے کیے ہیں۔ مظاہرین نے ایلن جانسٹن کے پوسٹروں کے ساتھ ساتھ بینر اٹھا رکھے تھے جن میں جانسٹن کے اغوا کی مذمت کی گئی تھی۔ جانسٹن کوآخری مرتبہ بارہ مارچ کو دیکھا گیا تھا اور خیال ہے کہ انہیں اغوا کیا گیا ہے۔ اگر انہیں واقعی اغواء کیاگیا ہے تو ان سے پہلے وہاں کسی اور صحافی کو اتنے طویل عرصے تک اغوا نہیں رکھا گیا۔ غزہ میں وہ واحد بین الاقوامی صحافی تھے۔ سنیچر کو رمااللہ ، نابلوس ، جنین، اور غزہ میں ہونے والے یہ مظاہرے جانسٹن کی رہائی کے لیے تقریباً ہر روز ہونے والے مظاہروں کی ایک کڑی تھے جن میں فلسطینی حکام سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ ایلن جانسٹن کو تلاش کرنے کے لئے مزید کچھ کریں۔ جمعہ کو بچوں نے ایلن جانسٹن کی حمایت میں غزہ میں مارچ کیا اور نماز کے بعد ان کے لیے دعا کی گئی۔ یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار مائیک سرجینٹ کا کہنا ہے کہ غزہ اور غرب اردن میں لوگوں میں غصہ اور مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کئی فلسطینیوں کا خیالہے کہ جانسٹن کے اغوا کے بعد ان کی بات کا دنیا تک پہنچنا مشکل ہو گیا ہے۔
جمعرات کو برطانوی سفارتکار نے فلسطینی وزیر اعظم اور حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ سے ایلن جانسٹن کے بارے میں بات کی تھی برطانیہ کے کسی سفارت کار کی حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ سے یہ پہلی ملاقات تھی۔ برطانیہ حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے اور اس سے کسی قسم کا رابطہ کرنے سے اجتناب کرتا رہا ہے۔ بی بی سی ویب سائٹ پر آنے والے ہزاروں لوگوں نے اپنے پیغام میں ایلن جانسٹن سے حمایت ظاہر کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایلن جانسٹن 1991 میں بی بی سی سے وابستہ ہوئے تھے اور ان سولہ سالوں میں سے آٹھ سال انہوں نے بطور نامہ نگار کام کیا ہے جس میں کچھ وقت انہوں نے ازبکستان اور افغانستان میں بھی گزارہ ہے۔ | اسی بارے میں برطانوی سفیر کا حماس سے رابطہ06 April, 2007 | آس پاس غزہ: مغویوں کے لیئے ڈیڈ لائن ختم 26 August, 2006 | آس پاس فلسطین: صحافی کے لیے مظاہرے07 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||